.

ایرانی عدلیہ کا احتجاجی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق لاریجانی نے ایک بیان میں ملک میں جاری احتجاج کچلنے اور مظاہرین سے سختی سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کردہ ایک بیان میں صادق لاریجانی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے ملک میں امن وامان کے قیام اور پرتشدد مظاہروں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

جوڈیشل کونسل کے سربراہ نے ایرانی رجیم کے حامی شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ حکومت مخالف احتجاج کا بھرپور جواب دیں اور حکومت کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری احتجاج ایک فتنہ ہے اور اس طرح کا فتنہ ایران سنہ 2009ء میں سبز انقلاب تحریک کے دوران بھی دیکھ چکا ہے۔

دوسری جانب ایران میں سماجی کارکنوں نے بتایا ہے کہ پولیس کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے دوران کم سے کم 1000 مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

تہران کے قائم مقام سیکیورٹی معاون نے اکتیس دسمبر کو ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارروں نے دارالحکومت سے 200 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

اس کے علاوہ اراک شہر سے 100 مظاہرین کو تخریب کاری اور بدنظمی پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ملک میں بدنظمی پھیلانے والے مزید عناصر کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔