.

بشار الاسد نے وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات کو کیوں برطرف کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے بدعنوانی سے متعلق افواہوں کے گردش میں آنے کے بعد اپنے وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات کو برطرف کر دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی نے پیر کے روز بتایا کہ بشار نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے علی عبداللہ ایوب کو وزیر دفاع ، محمد مازن علی یوسف کو وزیر صنعت اور عماد عبداللہ کو وزیر اطلاعات مقرر کیا ہے۔

نئے وزیر دفاع نے فہد جاسم الفریج کی جگہ لی ہے جنہوں نے 2012 میں اُس وقت کے وزیر دفاع داؤد الراجحہ کے قتل کے بعد دفاع کا قلم دان سنبھالا تھا۔

شامی حکومت کے حامی حلقوں اور اسی طرح شامی اپوزیشن کے ذرائع کی جانب سے بھی برطرف وزیر دفاع کے اپنی وزارت میں بدعنوانی کے ایک بڑے معاملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے خبریں گردش میں آتی رہیں۔

شامی اپوزیشن ذرائع کے مطابق الفریج نے غیر قانونی طریقے سے مال بنایا۔ اس مقصد کے لیے مذکورہ وزیر نے لازمی عسکری خدمت سے چُھوٹ دینے کے لیے سمجھوتے کیے۔ بطور وزیر الفریج کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ جس کو چاہیں یہ استثناء دے سکتے ہیں۔ اس امر نے برطرف وزیر کو مال حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کر دیا۔

یہ بات معروف ہے کہ حکومت کی شامی اپوزیشن کے خلاف جنگ کے بعد سے شامی عوام لازمی عسکری خدمت کی انجام دہی سے فرار کے تمام تر راستے اختیار کرتے ہیں۔

بشار الاسد نے اپنے نئے فرمان میں وزیر دفاع کو لازمی عسکری خدمات سے چُھوٹ دینے کے اختیار کی عبارت حذف کر دی ہے جس کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ بشار کی چاہت ہے کہ اس منصب پر رہ کر آمدن کے مذکورہ ذریعے پر روک لگائی جائے۔

شام میں عسکری خدمت سے استثناء کے قانون سے فائدہ اٹھانے والے شامیوں کی تعداد 1700 پہنچ چکی ہے۔ توقع ہے کہ ان افراد کو دی گئی چُھوٹ بھی واپس لی جائے گی۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ وزارت دفاع میں طے پانے والے بدعنوانی کے سمجھوتوں کا حصّہ ہیں۔ انہوں نے عسکری خدمت سے چُھوٹ حاصل کرنے کے لیے بھاری مالی رقوم کی ادائیگی کی۔

ادھر عماد عبداللہ کو محمد رامز ترجمان کی جگہ نیا وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ سرزنش کے طور پر ہونے والی اس برطرفی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ رامز نے 2017 کے اواخر میں عماد عبداللہ کو وزارت سے برطرف کر دیا تھا اور تین گھنٹوں بعد وہ اپنے عہدے پر واپس آ گئے۔

برطرف وزیر اطلاعات محمد رامز ترجمان کے دور میں دو سرکاری سیٹلائٹ چینل اور ایک ریڈیو اسٹیشن بند کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملازمین کو فارغ کر کے انہیں دیگر اداروں میں تقسیم کیا گیا اور بعض کو حکومتی فوج کے اداروں میں کھپایا گیا۔

تاہم وہ اسکینڈل جس نے محمد رامز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا وہ ایک اسرائیلی صحافی کے بشار کی حکومت کے زیر کنٹرول ملٹری زونز میں داخلے کو آسان بنانا تھا۔ اسرائیلی صحافی جوناتھن اسپائر کا دورہ رامز ترجمان کے ساتھ رابطہ کاری سے انجام پایا۔

رامز ترجمان کا موقف ہے کہ اسرائیلی صحافی برطانوی پاسپورٹ کے ذریعے شام میں داخل ہوا تھا۔ تاہم خود رامز کی وزارت کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ گوگل پر آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ صحافی اسرائیلی ہے۔ اس داخلے نے ایک بڑا ہنگامہ برپا کر دیا کیوں کہ اسرائیلی صحافی نے بشار کی فوج کے افسران سے ملاقات کی تھی۔

اسی طرح اسرائیلی برطانوی صحافی کی فیس بک پر تحریر نے ایک نیا اسکینڈل پیدا کر دیا جس میں بتایا گیا کہ ایک روسی صحافی نے شام میں اپنے پستول کے ذریعے ان کو دھمکایا اور بشار کے ملازمین اُس صحافی کو کسی طور روک نہ سکے۔ اسپائر کا کہنا ہے کہ بشار کے اہل کاروں کو اپنے دارالحکومت میں بھی خود مختاری اور مکمل اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ اس بِنا پر وہ بشار الاسد کی حکومت کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ ایک "کھوکھلا ڈھانچہ" ہے۔

اس سے قبل برطرف وزیر اطلاعات رامز ترجمان نے شامی سیٹلائٹ چینلوں میں کام کرنے والی خواتین میزبانوں کے خلاف دھماکا خیز انکشاف کیا تھا۔ رامز نے گزشتہ برس نومبر میں کہا تھا کہ ان کی وزارت کے پاس خواتین اینکروں کو لباس فراہم کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ رامز کا مزید کہنا تھا کہ وہ خواتین اینکروں کے لباس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسپانسروں کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہ کام انہیں کسی طور "گداگری" سے کم محسوس نہیں ہوتا۔