.

بیت المقدس پر اسرائیلی گرفت شدید تر ، کسی بھی انخلاء پر نئی قیود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیت المقدس سے متعلق تمام بین الاقوامی قراردادوں کی مخالفت کے حوالے سے اسرائیلی ہٹ دھرمی سے پوری دنیا واقف ہے۔ بالخصوص دسمبر میں امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اس ہٹ دھرمی میں اور شدّت آ گئی ہے۔ اس سلسلے میں منگل کے روز اسرائیل نے مستقبل میں فلسطینیوں کے واسطے بیت المقدس کے کسی بھی حصّے سے دست برداری کے لیے ہونے والی ممکنہ رائے شماری پر پابندیوں کو سخت کر دیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے آج منگل کی صبح "یکجا بیت المقدس" کے نام سے ایک قرار داد کی منظوری دے دی جو کسی بھی سیاسی حل کے سلسلے میں بیت المقدس سے کسی بھی انخلاء کا راستہ روکتی ہے۔ قرارداد کے متن کے مطابق اس نوعیت کے کسی بھی فیصلے کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت یعنی 61 ووٹوں کی نہیں بلکہ خاص اکثریت یعنی 80 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔

متن میں کئی عرب محّلوں مثلا شعفاط کیمپ ، کفر عقب اور ولجہ کو بیت المقدس کی بلدیہ کے دائرہ کار سے نکال کر ان علاقوں کے لیے ایک علاحدہ اسرائیلی بلدیہ کے قیام پر زور دیا گیا ہے تاکہ بیت المقدس میں 2 لاکھ کے قریب فلسطینیوں سے جان چھڑائی جا سکے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق آج پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے حق میں 64 ووٹ آئے جب کہ 51 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔

نمائندے کے مطابق سیاسی اور جغرافیائی حوالے سے بیت المقدس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ کے 120 ارکان میں سے کم از کم 80 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

نئے قانون سے متعلق قرارداد کا فارمولا The Jewish Home پارٹی نے تیار کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اولڈ ٹاؤن اور مشرقی بیت المقدس تا ابد اسرائیل کے ماتحت رہیں گے۔