.

حالیہ احتجاج میں شریک مظاہرین "بیرونی ایجنٹ" ہیں : علی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے منگل کے روز مظاہرین پر "بیرونی ایجنٹ" ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ ملک میں شورش پیدا کر رہے ہیں۔

خامنہ ای نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ ایام میں ایران کے دشمنوں نے مختلف آلہ کار استعمال کیے جن میں مال ، ہتھیار ، سیاست اور انٹیلی جنس ادارے شامل ہیں تا کہ اسلامی جمہوریہ کے مسائل کو بھڑکایا جا سکے۔

ادھر تہران میں انقلابی عدالت کے سربراہ موسی غضنفر آبادی نے خبردار کیا ہے کہ گرفتار شدگان مظاہرین کو عدالتی کارروائی کے موقع پر ایسے مقدمات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے جن کی سزا موت ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق غضنفر آبادی کا کہنا ہے کہ "یہ بات واضح ہے کہ ان افراد پر عائد کیا جانے والا ایک الزام باری تعالی کے خلاف جنگ کرنا بھی ہو سکتا ہے اور ایران میں اس جرم کی سزا موت ہے"۔

غضنفر آبادی کے مطابق بعض احتجاج کنندگان کے خلاف عنقریب قومی سلامتی اور املاک عامہ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام نے تہران میں ہفتے کے روز سے تین کے اندر 450 افراد کو گرفتار کیا۔

ایران میں معاشی ابتری کے خلاف حالیہ عوامی احتجاجی سلسلے کا آغاز جمعرات کے روز مشہد شہر سے ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ دیگر شہروں تک پھیلتا چلا گیا۔