.

خاتون کی جانب سے مصری گلوکار کے بوسے پر اردن میں ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری گلوکار تامر حسنی کا شمار عرب دنیا کے اُن فن کاروں میں ہوتا ہے جن کے سامنے آنے پر اُن کے پرستار بالخصوص خواتین اپنے حواس میں نہیں رہ پاتی ہیں۔

تامر خلیجی ممالک سمیت جس عرب ملک کے ہوائی اڈّے پر دوران سفر موجود ہوتے ہیں وہاں ایک افراتفری مچ جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ اردن میں بھی ہوا جہاں تامر نے 4 روز قبل ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس دوران دارالحکومت عَمّان کا کوئین علیاء ایئرپورٹ تامر کے پرستاروں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ البتہ یہ ہجوم تامر کی سرکاری تقریب میں غائب رہا جو ایرینا اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ تقریب شدید بد انتظامی کا شکار ہو گئی جس کے سبب تامر حسنی پروگرام کے آغاز کے صرف 40 منٹ بعد ہی اسے ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔

نوجوان گلوکار کے اردن پہنچنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر اردنی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ اس کی وجہ ایک ادھیڑ عمر خاتون تھیں جنہوں نے ہوائی اڈے پر تامر کا خیر مقدم کرنے والے ہجوم میں گھس کر مصری گلوکار کے گال کا بوسہ لے لیا۔ لوگوں کے نزدیک مذکورہ خاتون کو اپنی عمر کا لحاظ کرنا چاہیے تھا اور یہ حرکت ان خاتون کے شایانِ شان نہیں۔

بہرکیف اس متنازعہ بوسے نے لوگوں کے ذہنوں میں اُس بوسے کی یاد تازہ کر دی جو گزشتہ برس مئی میں مراکش پہنچنے پر ایک نوجوان لڑکی نے تامر کے ہاتھ پر دیا تھا۔

تامر ان نوعیت کے تصرفات کا دفاع کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ تمام لوگ میرے پرستار ہیں جو اپنے سچّے جذبات کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔