.

یمن میں حوثیوں کی قیادت کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کرائم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پیر کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی افسران کے ناموں کا انکشاف کیا ہے جو یمن میں باغی حوثی ملیشیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ نے باور کرایا کہ ایرانی وزارت دفاع نے 2017 کے اوائل میں گولہ بارود کے ماہرین کو بھی یمن بھیجا تھا۔

مذکورہ انسٹی ٹیوٹ جس کا صدر دفتر امریکا میں ہے اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کے تین سینئر افسران جن کو یمن بھیجا گیا وہ کرنل رضا باسینی ، کمانڈر علی الرجبی اور میجر محمد نيازی ہیں۔ یہ تینوں اس وقت یمن میں موجود ہیں اور بطور عسکری ماہر کام کر رہے ہیں۔ ان افراد کی ذمّے داری حوثیوں اور ان کی عسکری کارروائیوں کی قیادت کرنا ہے"۔

رپورٹ کے مطابق 2017 کے اوائل میں ایرانی وزارت دفاع نے بہرام رحناما کی قیادت میں گولہ بارود تیار کرنے والی ایک ٹیم کو یمن بھیجا تھا تا کہ وہ حوثیوں کے لیے گولہ بارود کی تیاری میں مدد کرے۔

رپورٹ میں اس بات کو قابل ذکر شمار کیا گیا کہ حوثی ملیشیا کے 1100 ارکان کو ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک عسکری کیمپ میں تربیت دی گئی۔ اس وقت ایرانی شہر ہمدان میں قُدس فورس کے کیمپ میں تقریبا 250 حوثیوں کی تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یمن کی صورت حال کو مکمل طور پر قابو میں لینے کے لیے ایران اِریٹیریا کے ساحل کے مقابل جزیرے نورہ پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔

اب ایران کی نظریں یمن کے جزیرے جنیش الکبری پر قبضہ کرنے کے لیے لگی ہوئی ہیں۔ اگر ایران اس جزیرے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ہتھیاروں اور مالی امداد ارسال کرنے میں آسانی میسّر آنے کے علاوہ آبنائے باب المندب پر کنٹرول بہت آسان بن جائے گا۔ تاہم وہ ابھی تک اس منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں ایرانی نظام نے حوثیوں کو بطور امداد تقریبا 9 کروڑ ڈالر کی رقم دی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد اور مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی فراہم کیا گیا۔

امریکا نے دسمبر کے وسط میں بعض ہتھیاروں کو منظرِ عام پر پیش کیا تھا جن میں اُس بیلسٹک میزائل کی باقیات بھی تھیں جو حوثی ملیشیا نے ریاض پر داغا تھا۔ ان کے علاوہ دیگر آلات بھی پیش کیے گئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ حوثیوں کے لیے ایرانی سپورٹ کے ناقابلِ تردید شواہد ہیں۔