.

احتجاج کُچلنے کے لیے ایران نے شام سے اپنی فورسز کا ایک حصّہ بُلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے شام میں تعینات پاسداران انقلاب کے ایک حصّے کو واپس بُلا لیا ہے تا کہ وہ ملک بھر میں آٹھ روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شریک ہو سکے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاسدران انقلاب نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے سے مطالبہ کیا تھا کہ شام میں جن ایرانی فورسز کی ضرورت نہیں رہی ان کی فوری طور پر تہران واپسی کے انتظامات کیے جائیں۔

ایران کے ضلعے اہواز میں ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ حکام نے تہران نواز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے عناصر کو لا کر اہواز اور ملک کے دیگر صوبوں میں پھیلا دیا ہے تا کہ تہران کے خلاف جاری عوامی احتجاج کو کچلا جا سکے۔

الحشد الشعبی کے ارکان کا ایک گروپ بدھ کی شام اہواز شہر کے علاقے الثورہ میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں پاسداران انقلاب اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ شریک ہوا تھا۔

ادھر ایران میں احتجاج کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ "آمد نیوز" کے مطابق پاسداران انقلاب نے شام میں لڑنے والی افغان ملیشیا "فاطمیون" کے ہزاروں اجرتی قاتلوں کو ایران لا کر انہیں صوبہ اصفہان کے "خمينی شہر" منتقل کر دیا ہے۔ یہاں وہ شہر میں جاری عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں شریک ہوں گے۔

ایرانی عوام دارالحکومت تہران اور ملک کے مختلف صوبوں میں مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے مظاہروں کے لیے سڑکوں پر آنے کے لیے تیاری کر رکھی ہے۔

ایران میں تقریبا ایک ہفتے سے جاری عوامی احتجاج اور مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ اس دوران امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے ایران میں پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی سخت مذمت اور اقوام متحدہ سے ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔