.

دمشق کے نزدیک مبیّنہ روسی حملوں میں 30 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں مقامی آبادی اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے بتایا ہے کہ آج جمعرات کے روز دمشق کے مشرق میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول قصبے مسرابا میں لڑاکا طیاروں نے بم باری کر کے دو عمارتوں کو ملیا میٹ کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 20 شامی شہری جاں بحق اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 11 خواتین اور بچّے شامل ہیں۔

خیال ہے کہ حملہ آور طیارے روسی فضائیہ کے تھے۔

ان کے علاوہ شامی دارالحکومت کے نزدیک دیگر قصبوں پر فضائی بم باری میں کم از کم 10 افراد اور موت کی نیند سلا دیے گئے۔

سوشل میڈیا پر جاری وڈیو کلپوں میں امدادی کارکنان کو ملبے کے نیچے سے بچوں اور خواتین کو نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان وڈیوز کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔

روسی یلغاروں کی مدد سے بشار کی فوج نے آخری چند ماہ میں الغوطہ الشرقیہ کے علاقے میں اپنی عسکری کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ علاقے کے محاصرے کے لیے کوشاں شامی حکومت کے اس اقدام کو مقامی آبادی اور امدادی کارکنان نے لوگوں کو بھوکا مارنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔

مذکورہ طیاروں نے اپوزیشن کے جنگجوؤں کے زیر کنٹرول شہر حرستا پر بھی بم باری کی۔ رواں ہفتے مسلح اپوزیشن عناصر نے شہر کے قلب میں ایک بڑے اڈّے پر قبضہ کر لیا تھا جس کو بشار کی فوج رہائشی علاقوں پر گولہ باری کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق علاقے میں تقریبا 4 لاکھ شہری محصور ہیں جن کو "سنگین المیے" کا سامنا ہے۔ اس لیے کہ بشار حکومت کی فورسز امدادی ٹرکوں کو داخل نہیں ہونے دے رہے جب کہ فوری علاج کے ضرورت مند سیکڑوں افراد کو بھی علاقے سے باہر نکالے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

روس کی جانب سے شامی اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اُن الزامات کو مسترد کیا جاتا ہے کہ اُس کی فضائیہ دو برس قبل ماسکو کی مداخلت کے بعد سے اب تک ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی ذمّے دار ہے۔