.

عسکری اہل کار مظاہروں میں شامل ہو جائیں : شاہِ ایران کے بیٹے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی عسکری اہل کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شامل ہو کر اُس اسلامیہ جمہوریہ سے جان چھڑائیں جس کی قیادت علی خامنہ کے ہاتھ میں ہے۔

امریکا میں مقیم رضا نے یہ بات فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "Manato" ٹی وی سے گفتگو میں کہی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ مظاہرین کی جانب سے علی خامنہ ای کی تصاویر پھاڑے جانے اور اُن کے اقتدار سے سبک دوشی کے مطالبات کے بعد مرشد اعلی پر لازم ہے کہ وہ کوچ کر جائیں۔

رضا پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں مسلح افواج کو احتجاج کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جس کسی نے بھی فوجی وردی پہن رکھی ہے خواہ اس کا تعلق فوج سے ہو یا پاسداران سے ،، اُسے چاہّیے کہ حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی پہرے داری کرے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایک سے زیادہ موقع پر ایران میں شاہی دور کو سراہا۔ اس امر نے شاہ ایران کے بیٹے کو حوصلہ دیا کہ وہ گزشتہ ایام کے دوران مختلف ذرائع سے مظاہرین سے مخاطب ہوئے اور ملک میں رائج نظام کے خلاف ڈٹے رہنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر مشہور شیعہ مذہبی شخصیت سید کاظم شریعتمداری کے بیٹے حسن شریعتمداری نے ایک بیان میں ایران میں آذربائیجانی شہریوں کو اُن ہی کی زبان میں مخاطب کرتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے ایک سابق صدر محسن بنی صدر نے جو پیرس میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں کیوں کہ ایرانی نظام احتجاج کو کچلنے کے لیے اس طرح کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھائے گا۔ ایران کے بعض شہروں میں دوران احتجاج سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

سابق صدر نے اُن ایرانی تجزیہ کاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو مظاہرین کے دلوں میں ان دعوؤں کے ساتھ خوف پیدا کر رہے ہیں کہ حالیہ انقلابی تحریک ملک کو شام اور لیبیا جیسے انجام تک پہنچا دے گی۔