.

ایران کے پالتو عسکری عناصرعراق کی سیاست پرقبضہ کرنے کو تیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث ایران نوازشیعہ ملیشیاؤں نے میدان سیاست میں گھوڑے دوڑانے اور پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی تیاری شروع کی ہے۔

العربیہ کے مطابق ایران کی وفاداری اور فرقہ پرست مذہبی نعروں کے ساتھ یہ گروپ آئندہ عراق کےپارلیمانی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔

خیال رہے کہ عراق کا موجود آئین کسی دوسرےملک سے اعلان وفاداری کرنے اور مذہبی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگرچہ انتخابات میں حصہ لینے والے عناصر عسکری گروپوں کے عہدوں سے مستعفی ہوں گے جس کے بعد وہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔

اخبار واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مستعفی ہونے کے باوجود ملیشیاؤں کے ان عناصر کا ان گروپوں میں کلیدی کردار رہے گا۔

ایران کی وفاداری کا نعرہ لگانے والےعسکری گروپوں میں بدر گروپ، عصائب اھل الحق اور حزب اللہ بریگیڈ نےاپنی عسکری مہارتوں کو پارلیمنٹ میں منتقل کرنے کے لیے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے کہا کہ عسکری گروپوں کا انتخابات میں حصہ لینا عراق کی سلامتی کے مستقل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ملک کی زمام اقتدار اور سیاسی ذمہ داریاں مذہبی فرقہ وارانہ بنیادوں پرتشکیل پانے والے گروپوں کے ہاتھوں میں آئیں گی تو عراق اندھیری غار میں داخل ہو جائے گا۔ عراق کے لیے زیادہ خطرہ ان گرپوں سے ہے جو واضح ایرانی حمایت میں انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کے لیے پرتول رہے ہیں۔

اخبار واشنگٹن ٹائمز کے مطابق وزیراعظم حیدر العبادی کے حالیہ دورہ ایران کےدوران سپریم لیڈر نے ان سے کہا تھا کہ داعش کے خاتمے کے بعد وہ امریکی فوج کو عراق سے نکال دیں اور الحشد الشعبی ملیشیا کو غیر مسلح نہ کریں۔