.

برطانوی سیاست دان نوجوان گوری ماڈل کےعشق میں گرفتار

بولٹن کے معاشقے نے بیوی دور کردی،پارٹی قیادت بھی خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محبت کسی بھی عمر میں کسی سے بھی ممکن ہے۔ برطانیہ کی استقلال پارٹی کے سربراہ ھنری بولٹن اور 25 سالہ گوری ماڈل جو مارنی نے یہ مقولہ سچ کر دکھایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے برطانوی سیاست دان کے معاشقے اور بولٹن کو اس محبت کی قیمت چکانے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ھنری بولٹن اور ان کی اہلیہ 42 سالہ تاینانا سموروفا کے درمیان گذشتہ برس اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ ان اختلافات کے بعد وہ ناراض ہو کربچوں سمیت آسٹریا چلی گئی تھیں۔

حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں ھنری بولٹن اور ان کی معشوقہ جو مارنی کی ایک ساتھ تصاویر نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا تھا۔ برطانوی سیاست دان ھنری بولٹن کے اس مبینہ معاشقے کے منظرعام پرآنے کے بعد انہیں پارٹی کی طرف سے بھی سخت دباؤ ہے۔ یہ دباؤ اس وقت سےجاری ہے جب ان کی اہلیہ ناراض ہو کر آسٹری چلی گئی تھیں۔

بوڑھے ھنری بولٹن اور نوجوان گوری دوشیزہ کے باہمی معاشقے کی تفصیلات اخبار ’ڈیلی میل‘ نے تصاویر کے ساتھ شائع کی ہیں۔

اپنے شوہر کے ساتھ اس کی ’محبوبہ‘ کی تصاویر کے منظرعام پرآنے کے بعد ناراض بیگم سموروفا نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس کی توجہ اس طرح کے معاملات پر نہیں۔ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ناراضی ختم کرکے تعلقات کو معمول پر لاسکتی ہیں۔

ھنری بولٹن اور جو مارنی کی ایک ساتھ تصاویر ان کی سالگرہ کے موقع پر لی گئی تھیں۔ تہام اخبارات میں ان دونوں کے شادی سے متعلق کسی عزم کا اظہار نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر ھنری بولٹن کو سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی ہے کہ نوجوان ماڈل کے ساتھ ان کی محبت کا ان کی بیوی کو علم ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی کو دھوکہ نہیں دیا۔

خیال رہے کہ بولٹن اور ان کی اہلیہ کے درمیان گذشتہ برس اس وقت اختلافات پیدا ہوئے تھے جب بولٹن نے آسٹریا میں یورپی یونین کے زیرانتظام سیکیورٹی و کو آپریشن آرگنائزیشن کی ایک ملازمت پر اعتراض کیا تھا۔

استقلال پارٹی برطانیہ کے یورپی یونین میں شامل رہنے کے خلاف رہی ہے۔ اس لیے بولٹن نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اہلیہ یورپی یونین کے کسی ادارے کے تحت ملازمت کرے۔

استقلال پارٹی نے سنہ 2014ء کے یورپی یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2015ء کے برطانوی پارلیمانی انتخابات میں اس جماعت نے 13 فی صد نشستیں جیتی تھیں۔ جون 2016ء کو وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کےلیے ریفرنڈم کرایا تو عوام کی اکثریت نےعلاحدگی کےحق میں ووٹ دیا تھا۔