.

ایرانی باسیج فورس کے عناصر شناخت جَلا کر احتجاجی مظاہرین میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے کئی صوبوں میں حکومت اور مرشد اعلی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے۔ اس دوران اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل نے یوٹیوب پر ایرانی فورس باسیج کے بعض ارکان کی وڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ ان وڈیوز میں مذکورہ ارکان اپنی عسکری شناخت کو آگ لگا کر کریک ڈاؤن کے ذمّے دار نظام سے علاحدگی اور مظاہرین کے مطالبات کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایران میں جمعرات 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ملک کے مختلف شہروں میں گیارہویں روز بھی جاری ہے۔

ہفتے کی شام اہواز صوبے کے جنوبی شہر معشور اور تہران کے شمال میں واقع شہر کرج میں عوام احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

اس مرتبہ ایران میں سامنے آنے والے احتجاجی مظاہرے اس لحاظ سے ماضی سے مختلف ہیں کہ مظاہرین کی جانب سے جرات مندانہ اور غیر مانوس قسم کی کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس دوران سکیورٹی مراکز کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، خامنہ ای اور ان کے نظام کی اعلی شخصیات کی تصاویر کو نذرِ آتش کیا گیا اور بیرون ملک مقیم اپوزیشن شخصیات کی تصاویر بلند کی گئیں۔

کیمروں کی آنکھ نے اس منظر کی بھی تصدیق جس میں مظاہرین نے کچھ روز قبل دارالحکومت تہران کے مغرب میں ایک مرکزی شاہراہ پر احتجاج کے دوران ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کی سربراہ مریم رجوی کی ایک بڑی تصویر اٹھا رکھی تھی۔

اسی طرح کے مناظر یورپ اور دنیا بھر میں دیگر شہروں اور دارالحکومتوں میں بھی دیکھنے میں آئے۔ اس کے علاوہ دیواروں پر عبارتیں بھی تحریر کی گئی ہیں جو مظاہرین کے مطالبات اور بدعنوان ملکی نظام کے خلاف ان کی تحریک کے لیے حمایت کا اظہار کرتی ہیں۔