.

مصر نے بیت المقدس کے بارے میں "نیویارک ٹائمز" کی رپورٹ مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے اتوار کے روز امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کی اُس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعوی کیا گیا کہ مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو ضمنی طور پر قبول کر لیا ہے۔

امریکی اخبار نے ہفتے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ اُس کے پاس بعض آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں۔ یہ ریکارڈنگ مصری انٹیلی جنس کے ایک افسر اشرف الخولی کی آواز میں ہے جس میں اس کے ساتھ مصر کے تین ٹاک شو پریزینٹرز عزمی مجاہد، سعید حساسین اور مفید فوزی بھی شامل ہیں۔ گفتگو میں الخولی مذکورہ افراد پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس موقف کی ترویج کریں کہ بیت المقدس کے بجائے رام اللہ شہر کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر قبول کیا جائے۔

مصری ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اخبار کی رپورٹ میں محض دعوے کیے گئے ہیں اور یہ کسی نامعلوم شخص کی جانب سے اِفشا کی گئی باتوں پر مشتمل ہے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تین پریزنٹروں میں سے مفید فوزی کئی سالوں سے کوئی ٹی وی پروگرام پیش نہیں کر رہے ہیں، سعد حساسین واشنگٹن کی جانب سے اعلانِ قُدس کے فیصلے سے کئی ہفتے قبل ہی اپنا ٹی وی پروگرام کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

میڈیا پرسن عزمی مجاہد اس بات سے انکار کر چکے ہیں کہ وہ اشرف الخولی نامی کسی شخص کو جانتے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ میں مذکورہ شخص کا مصری انٹیلی جنس سے تعلق ہونے کا کوئی ادنی ثبوت تک پیش نہیں کیا گیا۔

مصری ایوان صدر نے باور کرایا ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے قاہرہ کا موقف وہ ہی ہے جو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا ہے۔

مصر اپنی وزارت خارجہ سمیت کئی اداروں کے بیانات کے ذریعے سرکاری طور پر یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ مصر نے گزشتہ ماہ سلامتی کونسل میں عرب لیگ کی جانب سے ایک قرارداد بھی پیش کی تھی جس میں بیت المقدس شہر کی پوزیشن کو ضرر نہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ امریکی ویٹو کے سبب یہ قرارداد منظور نہ کی جا سکی۔