.

قطر- ایران رابطہ کاری جاری، جزیر"کیش" اقتصادی پُل بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور قطر کے درمیان اقتصادی اور سیاحتی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ اس امر نے دوحہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایران کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کے باوجود تہران کے نظام کو سپورٹ کرے۔

قطر اور ایران کو درپیش بحرانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مستقل نوعیت کی رابطہ کاری موجود ہے۔ ایرانی جزیرہ کیش ایک سیاحتی مقام سے تبدیل ہو کر دونوں ممالک کے بیچ اقتصادی ہَنی مُون کے مقام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں ایران اور قطر کے وفود نے ملاقات میں جانبین کے درمیان سیاحتی تعلقات مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر بات چیت کی۔

ملاقات میں ایرانی سیاحتی سیکٹر کی کئی سینئر اہل کار موجود تھے۔ اس دوران قطر کی فضائی کمپنی اور ایرانی فضائی کمپنیوں کے درمیان تعاون بھی زیر بحث آیا۔

قطری وفد نے جزیرہ کیش کے لیے ایک ہوائی اڈّے کا بنیادی ڈھانچہ دریافت کیا اور قطری فضائی کمپنی کی پروازوں کی میزبانی کے لیے مطلوب شرائط پیش کیں۔

توقع ہے کہ قطر میں ہوٹل مالکان کی ایسوسی ایشن کے سربراہ جلد ہی ایرانی ذمّے داران کی سرکاری دعوت پر دورہ کریں گے۔

جزیرہ کیش کا معاملہ ایران قطر تعلقات میں پہلی منزل نہیں ہے۔ دوحہ نے دہشت گردی کو مسترد کرنے والے چار عرب ممالک کے ساتھ اپنے بحران کے آغاز کے وقت سے ہی تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے تھے۔

جانبین کے بیچ سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے دورے کیے گئے۔ اس سلسلے میں بوشہر کی بندرگاہ کو دونوں ممالک کے بیچ تجارتی مرکز کی حیثیت دی گئی۔

دوسری جانب ایران قطر کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں اقتصادی طور پر حتی الامکان استفادہ کرنے کے لیے کوشاں ہے بالخصوص ایسے میں جب کہ کئی بڑے شہروں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ پُھوٹ پڑا ہے۔