.

یمن : خود کو اماراتی فورسز کے حوالے کرنے والے حوثی کمانڈر کے اعترافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حیس اور خوخہ کے محاذ پر حوثی فورسز کے ذمّے دار کمانڈر نے خود کو متحدہ عرب امارات کی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مذکورہ کمانڈر کا کہنا ہے کہ و سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحادی افواج کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

حوثی کمانڈر حمیر ابراہیم نے اتوار کے روز اماراتی نیوز ایجنسی WAM کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنے قبیلے کے افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والی فورسز میں شمولیت اختیار کر لیں اور ایران نواز حوثی میشیا کا راستہ روکیں تا کہ یمن کی تمام اراضی کو آزاد کرایا جا سکے۔

حمیر نے انکشاف کیا کہ ایران نواز حوثی ملیشیا لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ملیشیا بچوں کو بھی لڑائی کے محاذوں پر اگلی صفوں میں جھونکتی ہے۔

حمیر کے مطابق جو کوئی حوثی ملیشیا میں شمولیت سے انکار کرتا ہے اُس کو گھر والوں سمیت علاقے سے نکال دیا جاتا ہے۔

خود کو حوالے کیے جانے سے متعلق حمیر ابراہیم نے بتایا کہ اماراتی فورسز نے بہترین برتاؤ کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا اور اس کے ساتھ بہت اچھا معاملہ کیا۔ حمیر نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے شانہ بشانہ لڑنے والے ہر شخص کو دعوت دی کہ وہ اس راستے کو چھوڑ کر حق کی جانب واپس لوٹے اور یمن میں سرکاری فورسز میں شمولیت اختیار کرے۔

حمیر ابراہیم نے یمنی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ یمنی اراضی میں بربادی اور بدعنوانی پھیلانے والی اس ایران نواز حوثی ملیشیا کے سامنے ڈٹ جانے کی ضرورت ہے۔ حمیر کے مطابق سعودی عرب کے زیر قیادت اتحادی افواج فتح اور نصرت کے نزدیک آ رہی ہیں۔ یہ فورسز حق پر ہیں اور تمام لوگوں کو چاہیّے کہ اس اتحاد کی اور یمن میں آئینی حکومت کی سپورٹ کرے تا کہ پوری سرزمین کو ایران نواز حوثی ملیشیا سے آزاد کرایا جا سکے۔