.

اسرائیلی جیلوں میں 35 برس سے قید اسیر کی ماں کیا کہتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کے ہاتھوں 1948 میں قبضے لی گئی فلسطینی اراضی کے شمالی تکون میں عارہ اور عرعرہ نامی دیہات کے درمیان علاقے میں ایک تین منزلہ مکان واقع ہے۔ اس مکان میں 85 سالہ فلسطینی خاتون (حجّن بی) صُبحیہ یونس اپنی کرسی پر بیٹھے دن بھر سڑک پر آتے جاتے راہ گیروں کو تکتی رہتی ہیں۔

بوڑھی خاتون کے چہرے پر نمایاں آثار اپنے اندر ایک تاریخ رکھتے ہیں جس کو کتابیں بیان نہیں کر سکتی ہیں۔ جی ہاں صبحیہ یونس کا بیٹا کریم یونس 35 برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہے۔

صبحیہ خاتون ہمیشہ مسکراہٹ اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے مہمانوں کا استقبال کرتی ہیں۔ بعد ازاں وہ اپنے بڑے بیٹے کریم کا قصّہ چھیڑ دیتی ہیں جس کو 1983 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

صبحیہ خاتون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اُس روز قابض اسرائیلی فوج نے اُن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور فوجیوں نے کریم کی تلاش شروع کردی۔ میں نے اُنہیں آگاہ کیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ اُن دنوں وہ اپنی یونی ورسٹی کے نزدیک بئر السبع میں سکونت پذیر تھا"۔ صبحیہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے یونی ورسٹی پر چھاپہ مارا اور کریم کو اُس کی کلاس کی نشست پر سے گرفتار کر لیا۔ اُس دن سے لے کر آج تک کریم پابندِ سلاسل ہے۔

کریم کے بھائی ندیم یونس کہتے ہیں کہ "میں کریم کی عالی ہمّت اور بلند حوصلے کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں جو ابھی تک مُصر ہے کہ زندگی اُس کی منتظر ہے ، کریم نے ایک دن بھی ہمّت نہیں ہاری"۔

اسرائیلی عدالت کریم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنا چکی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام نے کریم کو 75 روز کے لیے سُرخ لباس پہنا دیا قبل اس کے کہ سزا میں کمی کر کے اُسے عمر قید یعنی 40 برس کی جیل میں تبدیل کر دیا جائے۔ کریم پر ایک اسرائیلی فوج کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ کریم نے اسرائیلی جیلوں میں رہتے ہوئے دو کتابیں لکھ ڈالیں۔ ابھی اس کے سامنے 5 برس کی قید اور ہے جس کے بعد 40 برس کی عمر قید اختتام کو پہنچ جائے گی۔

صبحیہ خاتون اپنے کانپتے ہاتھوں سے آنسو پوچھتے ہوئے کہتی ہیں کہ "میری آرزو ہے کہ کریم اسرائیلی جیلوں سے باہر آ کر میرے ساتھ زندگی گزارے خواہ صرف ایک ہی برس کیوں نہ ہو"۔

اسرائیل کریم یونس کو رہا کرنے سے اِس بہانے انکار کرتا ہے کہ کریم کے پاس اسرائیلی شہریت ہے۔ لہذا وہ 1948ء کے دیگر فلسطینی قیدیوں کی طرح قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتوں میں شامل نہیں ہو سکتا"۔

کریم اس وقت صحرائے نقب کی جیل میں قید کاٹ رہا ہے۔ اس سے قبل وہ ایک سے زیادہ اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔