.

اہلِ جازان کے موتیے کے پھولوں سے پیار کی انوکھی داستاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے جازان کے لوگوں کا موتیے کے پھول کے ساتھ عشق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موتیا اُن قیمتی تحائف میں سے ہے جو یہاں کے لوگ اپنے مہمانوں کو پیش کرتے ہیں۔

جازان کی خواتین کی عادت ہے کہ وہ شادیوں اور دیگر تقریبات کے موقع پر اپنے بالوں کو "موتیے کے ہاروں" سے سجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مہمانوں کے استقبال کے موقع پر بھی موتیے کے پھول پیش کیے جاتے ہیں۔

صوبے کے کاشت کار اس پھول کا پودا اُگانے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ خواتین اپنے گھروں کے اندر اس کے پودے لگاتی ہیں جو گھروں کی خوب صورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اس طرح گھر کے اندر موتیے کی خوب صورت مہک پھیل جاتی ہے۔

موتیے کے پھول کی مختلف قسمیں اور شکلیں پائی جاتی ہیں۔ان میں "العزان" بڑے حجم کا ہوتا ہے اور زرد رنگت رکھتا ہے جب کہ "القریشی" انتہائی سفید ہوتا ہے۔

جازان کے چیمبر آف کامرس کی خاتون رکن نوال عمر عزالدین کے مطابق صوبے میں پائے جانے والے موتیے کے پھولوں الیمنی، العراقی اور البلدی کی صورتیں اور ان کے استعمال مختلف نوعیت کے ہیں۔

جازانی خواتین شادیوں اور دیگر مواقع پر موتیے کو مہندی کی بُوٹیوں کے ساتھ ملا کر استعمال میں لاتی ہیں۔

نوال عزالدین کے مطابق موتیے کے ہاروں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ہار کی قیمت ایک ہزار ریال تک بھی ہو سکتی ہے جب کہ "موتیے" کی فی کلو قیمت 15 سے 20 ریال کے درمیان ہوتی ہے۔ موتیے کا پھول شادی کے موقع پر کمرا عروسی میں سیج سجانے کے لیے بھی استعمال میں آتا ہے۔

جازان کے لوگ موتیے سے مُتعدّد خُوشبوئیات بھی تیار کرتے ہیں۔ خواتین شادی بیاہ کے موقع پر ان کا خاص طور پر استعمال کرتی ہیں۔

موتیے کا پھول فروخت کرنے والے محمد مجرشی کا کہنا ہے کہ موتیا اب بھی لوگوں کا محبوب ہے۔ یہ صوبے کے ہفتہ واری عوامی بازاروں میں بھی فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگ شادی بیاہ کے موقع پر خصوصی آرڈر کے ذریعے بھی اسے حاصل کرتے ہیں۔

مجرشی کے مطابق موتیے کا پھول توڑے جانے کے بعد دو روز تک تازہ رہ سکتا ہے۔ البتہ مملکت کے دیگر علاقوں میں برآمد کرنے کی صورت میں اسے برف کی سِلوں کے درمیان خاص طریقے سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ مرجھا نہ سکے۔

محمد مجرشی نے بتایا کہ موتیا فروخت کرنے والے افراد اس کے مختلف صورتوں کے ہار تیار کرتے ہیں۔ موسم سرما میں کم یاب ہونے کے سبب اس کے ایک کپ کی قیمت دس ریال ہوتی ہے جب کہ موسم گرما میں فراوانی کی وجہ سے اسی دس ریال قیمت میں تین کپ فروخت ہوتے ہیں۔