.

خامنہ ای کا ایرانی مُرشدِ اعلی کے منصب پر فائز رہنا غیر قانونی ثابت !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا اور فارسی زبان کے بعض ٹی وی چینلوں پر ایک وڈیو کلپ گردش میں آ رہا ہے جو اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کا اپنے منصب پر برقرار رہنا غیر قانونی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی نظام کے بانی خمینی کی موت کے بعد جون 1989 میں ایران کی مجلس خبرگان رہبری نے علی خامنہ ای کو ریفرنڈم کے اجرا تک "عارضی مُرشد" کے طور پر چُنا تھا۔

ایرانی آئین کے مطابق مجلس خبرگان رہبری "ولیِ فقیہ" کے نام سے ملک کے لیے مرشدِ اعلی کا چُناؤ کرتی ہے۔

زیر گردش وڈیو کلپ کے مطابق مجلس خبرگان رہبری اپنے مذکورہ اجلاس میں رائے شماری کر رہی ہے۔ اس اجلاس کی ادارت اکبر ہاشمی رفسنجانی کر رہے تھے جو اُس وقت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر تھے۔ اجلاس میں ریفرینڈم کے ہونے تک عارضی صورت میں مرشد کے چُناؤ کے واسطے بعض نام پیش کیے گئے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہوا کہ اجلاس کے شرکاء کس ریفرینڈم کی بات کر رہے ہیں۔

رفسنجانی سمیت مجلس کے بعض ارکان نے خامنہ ای کا نام پیش کیا تاہم خامنہ ای نے خود اس امر کی مخالفت کی۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس موضوع میں ایک "تکنیکی مسئلہ" ہے اور یہاں تک کہ مجلس کے تمام ارکان کی جانب سے بھی اس بات کا اعتراف نہیں ہے کہ وہ تقلید کا مرجع یا جامع مجتہد ہوں گے تا کہ اُن کے احکامات کو قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔

اس موقع پر بعض شخصیات نے کا موقف تھا کہ "جب آپ مرشد اعلی بن جائیں گے تو تمام لوگ آپ کے احکامات کے پابند ہوں گے"۔

رفسنجانی کا کہنا تھا کہ وہ خامنہ ای کو زمانہ طالب علمی سے جانتے ہیں، وہ گواہی دیتے ہیں کہ خامنہ ای محض بعض ماہرین کی مدد سے قانونی حیثیت کے حامل حکم تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس کے بعد رفسنجانی نے خامنہ ای کے "ریفرینڈم کے اجرا تک بطور مرشد اعلی" تقرّر کی تصدیق چاہی جس پر مجلس خبرگان رہبری کے دو تہائی سے زیادہ ارکان نے آمادگی کا اظہار کیا۔

طویل وڈیو میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حاضرین میں سے کسی نے رفسنجانی سے سوال کیا کہ "کیا آپ لوگ اس بات کا اعلان کریں گے کہ یہ عارضی مرشد اعلی ہیں؟" ... اس پر رفسنجانی نے جواب دیا کہ "نہیں، ہم یہ اعلان نہیں کریں گے"۔

البتہ اس اجلاس کے بعد خامنہ ای ملک کے مرشدِ اعلی بن گئے اور پھر آج تک اس منصب پر فائز ہیں۔ یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ مجلس خبرگان رہبری کے کسی بھی رکن کی جانب سے تفصیلات کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا جب کہ ان میں بعض تو خامنہ ای کے مخالف بھی بن گئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا اس اجلاس کی جو وڈیو پیش کر رہا ہے اس میں وہ مناظر حذف کر دیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خامنہ ای کا چُناؤ "عارضی" مرشد اعلی کے طور پر ہوا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا میں مقیم ایک ایرانی صحافی کے ذریعے اس وڈیو کو اِفشا کرانے والا ذریعہ ابھی تک گُمنام ہے۔