.

مراکش : امازیغی ملکہِ حُسن کے مقابلے میں شریک خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں سال 2018 کے لیے "امازیغی ملکہ حُسن" کے انتخاب کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اس سلسلے میں حتمی تقریب کا انعقاد آئندہ ہفتے کیا جا رہا ہے۔ مراکش کے لوگ پورے سال اس مقابلے کا انتظار کرتے ہیں۔

امازیغیوں کے نئے سال کا آغاز 13 جنوری کو ہوتا ہے۔ سالِ نو کی تقریبات کے سلسلے میں "مقابلہ حسن" کا انعقاد مراکش کے شہر اکادیر میں کیا جاتا ہے۔

مقابلہِ حسن کے منتظم محمد المومن نے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد امازیغیوں کی ثقافت کا تعارف کرانا ہے جو اہم ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے۔ المومن کے مطابق تقریب میں امازیغیوں کے سالِ نو کا خصوصی پکوان "تاكلا" بھی تیار کر کے حاضرین کو پیش کیا جائے گا۔

رواں برس مراکش میں 10 نوجوان امازیغی خواتین کے درمیان مقابلہ ہے جن کی عمریں 18 سے 29 برس کے درمیان ہیں۔ ان کے لیے امازیغی زبان میں مہارت لازمی ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کی ثقافتی سطح ، لباس کی نوعیت ، جوتے اور زیور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ایک سامنے آنے والی ایک وڈیو کلپ میں مقابلے میں شریک امازیغی خواتین جیت کے لیے اپنے جذبے اور عزم کا اظہار کر رہی ہیں۔ خواتین اپنے پیغام کے ذریعے عوام کو اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ اس مقابلے کی فتح کا تاج اپنے سر پر سجانے کے لیے خوب صورت ترین اور بہترین امیدوار ہیں۔ رواں برس امازیغی ملکہ حُسن کے انتخاب کے سلسلے میں 20 فی صد کردار عوامی رائے شماری کا ہو گا جب کہ 80 فی صد نتائج کا اختیار مقابلے کی جیوری کے پاس ہو گا۔

مقابلے میں شریک دس نوجوان خواتین کا تعلق مختلف شعبوں سے ہے۔ ان میں نرسنگ ، فیشن ڈیزائننگ ، تجارت ، تدریس اور ٹھیکے داری شامل ہے۔