.

رفسنجانی کی وفات کی وجوہات ، روحانی کا از سرِ نو تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سابق سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بیٹے یاسر ہاشمی کا کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی نے اُن کے والد کی وفات کے اسباب کے حوالے سے قومی سلامتی کی سپریم کونسل کی رپورٹ مسترد کر کے از سرِ نو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یاسر ہاشمی نے یہ بات اپنے والد کی وفات کا ایک سال پورا ہونے پر منگل 9 جنوری کو "بانا" نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں بتائی۔ یاسر کا کہنا تھا کہ قومی سلامی کی سپریم کونسل نے صدرِ جمہوریہ کو بھیجی گئی تحریر میں درخواست کی تھی کہ ہاشمی رفسنجانی کی وفات کا معاملہ اب بند کر دیا جائے تاہم صدر حسن روحانی نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کو دوبارہ کونسل کے سامنے پیش کر دیا"۔

یاسر ہاشمی کے مطابق روحانی نے رفسنجانی کی وفات کی وجوہات کے حوالے سے قومی سلامتی کی سپریم کونسل کی رپورٹ یکسر مسترد کر دی ، شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی نے سولہ دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے بعض ارکان نے اُن کے خاندان کو بتایا ہے کہ "وفات کے وقت اُن کے والد کے جسم میں پائے جانے والے ریڈیو ایکٹِو مواد کی مقدار مجوّزہ آخری حد سے 10 گُنا زیادہ تھی"۔

البتہ 9 فروری 2017 کو اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بھائی محمد ہاشمی نے اعلان کیا تھا کہ اُن کے بھائی کو نہ تو ہلاک کیا گیا اور نہ دم گھونٹ کر ختم کیا گیا بلکہ اُن کی وفات دل کے عارضے کے سبب ہوئی۔ تاہم 16 دسمبر کو محمد ہاشمی نے ایرانی روزنامے "شہروند" سے گفتگو میں بتایا کہ ہسپتال کا کہنا ہے کہ وفات کا سبب دل کا عارضہ ہے مگر ابھی تک دل کے عارضے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

رفسنجانی کی ایک دوسری بیٹی فاطمہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ اُن کے والد کو کبھی دل کی کوئی شکایت نہیں رہی اور وہ اپنی اولاد سے زیادہ چُست تھے۔ فاطمہ کے مطابق رفسنجانی کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے تشخیص مصلحت نظام کے کمپلیکس میں ان کے والد کے دفتر پر دھاوا بول کر تجوری کھولی اور اس میں سے اہم کاغذات نکال کر لے گئے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات 82 برس کی عمر میں ہوئی۔ ان کا شمار 1979 میں ایرانی انقلاب کی اہم ترین شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ ایرانی نظام کی تاسیس میں رفسنجانی کا بڑا کردار رہا۔ وہ اس نظام کے بانی خمینی کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔ علی خامنہ ای کو ایرانی نظام کی قیادت تک پہنچانے میں بھی رفسنجانی کا بڑا اثر ر رسوخ رہا۔

رفسنجانی نے ایران میں متعدد منصب سنبھالے جن میں پارلیمنٹ کا اسپیکر اور صدرِ جمہوریہ شامل ہے۔ تاہم 2009 کے بعد سے رفسنجانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی پالیسیوں سے دُور ہو گئے تھے۔ اُنہیں طہران میں نماز جمعہ کی امامت سے بھی روک دیا گیا تھا۔

رفسنجانی نے خامنہ ای اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کی بہت سی مقرّب شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم وہ حسن روحانی کے کرسیِ صدارت تک پہنچنے کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والوں میں سے تھے۔