.

سعودیہ: غیرملکی سرمایہ کاروں کو 49% حصص کی ملکیت کی اجازت

مملکت میں شیئرز میں غیرملکی سرمایہ کاری کی شرائط میں نرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب حکومت نے مملکت میں شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے کی مجاز کمپنیوں کے لیے شرائط میں مزید نرمی کرتے ہوئے ان کمپنیوں کو 49 فی صد حصص اپنی ملکیت میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی کیپٹیل مارکیٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے لیے وضع کردہ نیا فریم ورک 23 جنوری 2018ء سے نافذ ہوگا۔

کیپیٹل اتھارٹی نے اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے نئے قواعد وضوابط کا مقصد مملکت میں مالیاتی مارکیٹ کو مستحکم کرنا اور کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھاتے ہوئے کیپٹیل مارکیٹ کو مزید توسیع دینا ہے۔

نئے قواعد وضوابط ان غیرملکی کمپنیوں پر لاگو ہوں گے جو سعودی عرب میں حصص مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں دلچپسی رکھتی ہیں۔

سسٹم میں جدت

سعودی عرب کی کیپیٹل اتھارٹی کی طرف سے سرمایہ کاری کی خواہاں شخصیات اور کمپنیوں کی طرف سے ظاہر کردہ تحفظات، شکایات اور ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی روشنی میں سرمایہ کاری سسٹم کی تجدید کی جا رہی ہے۔

نئے سرمایہ کاری طریقہ کار میں کہا گیا ہے کہ جاری معاہدے کےآرٹیکل 14 کے تحت کسی غیرملکی سرمایہ کار کے لیے کسی بھی ذرائع میں 10 فی صد یا زیادہ کے حصص کا مالک ہو اس کا نام مجاز فہرست میں شامل ہونا ضروری ہے۔

نئے ضابطہ سرمایہ کاری میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کسی غیرملکی سرمایہ یا سرمایہ کاروں کے گروپ چاہے وہ سعودی عرب کے اندر مقیم ہوں یا ملک سے باہر ہوں زیادہ سے زیادہ 49 فی صد شیئرز کےمالک ہوسکتے ہیں۔

غیرملکی سرمایہ کاری پروگرام

سعودی عرب میں غیرملکی سرمایہ کاری پروگرام کو پرانا ہے مگر مجاز غیرملکی سرمایہ کار پروگرام کا آغاز جون 2015ء کو ہوا تھا۔ 2016ء میں اس کے قواعد وضوابط میں کچھ ترامیم کی گئیں۔ 2017ء کے آخر میں غیرملکی سرمایہ کاری پروگرام کی تجدید کی گئی اور 118 غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی مجاز قرار دیاگیا۔

سعودی عرب کی سرکاری کیپیٹل اتھارٹی کے چیئرمین محمد القویز کا کہنا ہے کہ کیپیٹل مارکیٹ مملکت کی اقتصادی ترقی کا بنیادی پرزہ ہے۔ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری پروگرام میں جد کا مقصد اس شعبے میں وسیع معاشی مواقع، امکانات، سرمائے کی آمد اور شفافیت پید اکرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد القویز نے کہا کہ سعودی عرب نے 2017ء سے غیرملکی سرمایہ کاری پروگرام میں جو طریقہ اپنایا ہے اس میں ماضی کی نسبت غیرملکی سرمایہ کار کو زیادہ سہولیات دی گئی ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کے سعودی عرب میں سرمایہ کاری مدت میں اضافہ ، قرض کے حصول کی اجازت، شیئرزکی فروخت اور کئی دوسری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔