.

سعودی طالب علم کی دوران امتحان ناگہانی موت، خاندان صدمے سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موت ایک ناگہانی چیز ہے اور کوئی پتا نہیں کب کس کا بلاوایا آ جائے۔ سعودی عرب میں ہائی اسکول کے طالب علم معاذ مسلم سلوم العوفی کی ناگہانی موت بھی ایک المناک واقعہ ہے جس میں پورے خاندان کو صدمے سے دوچار کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق معاذ العوفی مدینہ منورہ کے قیس بن سعد الانصاری ہائی اسکول میں میٹرک کا طالب علم تھا۔ وہ امتحان کے آخری پرچے کے لیے گھر سے نکلنے سے قبل ماں کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے لیے دعا کرے تاکہ اس کا یہ آخری پرچہ بھی اچھا ہو۔ ماں نے پیار اور دعاؤں کے ساتھ اپنے جواں سال بیٹے کو رخصت کیا۔ مگر اسے کیا معلوم کہ وہ اپنے لخت جگر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کر رہی ہے۔

معاذ اللعوفی اسکول میں پہنچا اور وقت مقررہ پر امتحان کے آخری پرچے کے لیے امتحانی ہال میں بیٹھا۔ کچھ دیر بعد اچانک اس پرغشی کا دورہ پڑا جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

مدینہ منورہ میں محکمہ تعلیم کےترجمان عمر بناوی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاذ کی موت طبعی تھی۔ اسکول کے پرنسپل ناصر عبدالکریم نے بچے کے والدین سے تعزیت کی اور مسجد نبوی میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد اسے جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

عمربناوی کا کہنا تھا کہ طالب علم کی اچانک موت نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اسکول کے اساتذہ اور معاذ کے دوستوں ہم جماعتوں کو بھی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے معاذ العوفی کے والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا مکمل طور پر تندرست اور صحت مند تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔ وہ جب گھر سے نکلا تو بار بار اپنے ماں سے اپنے لیے دعاؤں کا کہہ رہا تھا۔ متوفیٰ کے والد نے بتایا معاذ العوفی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ اسے گاڑیوں کا بے پناہ شوق تھا اور وہ اکثر گاڑیوں کی تصویریں جمع کرتا رہتا مگر وہ تعلیم میں بھی اسکول میں کسی سے پیچھے نہیں تھا۔ پورا خاندان اس کی اچھی نمبروں سے کامیابی کے لیے پرامید تھا۔ مگر اللہ کی مشیت ہمارے ارادون پر غالب آ گئی اور جواں سال بیٹے کا بلاوا آ گیا۔ والد نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے گذشتہ مسلسل تین جماعتوں کے امتحانات میں 90 فی صد نمبرات حاصل کیے تھے۔

والد نے بتایا کہ اسکول میں پیپر کے دوران جب اس کی حالت اچانک بگڑی تو اس نے نگران سے کہا کہ وہ بہت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ اس کے لیے ایمبولینس بلائی جائے۔ اس کے بعد اسے اچانک ایک بے ہوشی کا دورہ پڑا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے کچھ آفاقہ ہوا۔ جب اسے گھر لے جانے کی تیاری کی جانے لگی تو اس پر ایک بار پھر بےہوشی کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس وقت معاذ کے اہل خانہ اور کئی دوسرے اقارب بھی اسپتال پہنچ چکے تھے۔