.

غربِ اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید 1100 نئے مکانوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہود ی آباد کاروں کے لیے مزید گیارہ سو سے زیادہ نئے مکانوں کی منظوری دے دی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کی مخالف اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم’’ اب امن‘‘ نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع کی ایک کمیٹی نے بدھ کو ان مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ان میں سے 352 مکانوں کی تعمیر کی حتمی منظوری دی گئی ہے اور باقی دفتری کارروائی کے مختلف مراحل میں ہیں۔

اب امن کے مطابق کل 1122 مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ان میں سے سات پہلے ہی موجود ہیں اور انھیں قانونی بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔یہ مکانات غربِ اردن کے اندرون میں موجود یہودی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے ۔مشرق وسطیٰ تنازع کے دو ریاستی حل کی صورت میں اسرائیل کو ان علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا۔

اب امن کی ڈائریکٹر مس حجت عفران کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی حکومت کا عمومی رجحان یہ ہے کہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کررہی ہے اور ان علاقوں میں بھی یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات تعمیر کر رہی ہے جو اس کو خالی کرنا پڑیں گے لیکن وہ تنازع کے دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے‘‘۔

اب امن کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ سال 6742 مکانوں کی منظوری دی تھی اور یہ 2013ء میں یہودی آباد کاروں کے لیے سب سے زیادہ تعداد تھی۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما اپنے دورِ حکومت میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہود ی آبادکاروں کے لیے تعمیرات پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے لیکن ان کے جانشین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ضمن میں اسرائیل کو کوئی زیادہ دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔اس لیے اس نے کھلے بندوں یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کردی ہے۔

تاہم یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے بند کردے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی مشرق وسطیٰ جنگ میں غربِ اردن ، مشرقی یروشیلم اور گولان کی چوٹیوں سمیت جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا،وہ اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا حصہ نہیں ہیں۔