.

ایران اسلحہ برآمدگی پرپابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے: یو این

یمنی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں ایران پر اسلحہ کی برآمد پرعاید کردہ پابندیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کو بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کرنے کےعلاوہ ہتھیاروں کی ایکسپورٹ پر عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ایران کی طرف سےیمنی باغیوں کو فراہم کردہ ایئر کرافٹ جہاز اور بیلسٹک میزائل سعودی عرب کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی ساختہ بغیر پائلٹ کےڈرون طیاروں اور سنہ 2015ء میں ایرانی اسلحہ کی برآمدات پر عاید کردہ پابدنیوں کی مانیٹرنگ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی دفعہ 14 کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ اس قرارداد میں ایران پر اسلحہ کی برآمدات پر پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے۔

اگرچہ اس رپورٹ میں یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ اور میزائلوں کی فراہمی میں ملوث ایرانی عہدیداروں کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ سنہ 2017ء کے آخر تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ایران نے یمن کے حوثیوں کو اسلحہ اور میزائلوں کی برآمد روکنے کے مطالبات پرعمل درآمد نہیں کیا۔

اس کے ساتھ ایران نے کم فاصلے تک مار کرنے والے ’برکان 2 ایچ‘ میزائلوں کی فروخت اور ان کی بیرون ملک سپلائی روکنے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران اپنے ہاں تیار کردہ ڈرون طیاروں’ابابیل‘ کی مدد سے یمن کے حوثی ۔ صالح فوجی اتحاد کی مدد کرتا رہا ہے۔