.

پابندی کے باوجود ایران نے یمن کو اسلحہ فراہم کیا : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے یمن ہتھیار ارسال کرنے پر اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندی کی خلاف ورزی کی ہے کیوں کہ ایران نے حوثی باغیوں کے لیے جاسوس طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کا حصول آسان بنایا۔ یہ میزائل حوثیوں نے سعودی عرب پر داغے۔

سلامتی کونسل میں جمعے کے روز پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پابندی کی نگرانی کرنے والے مبصرین اور ماہرین نے "ایسی خلاف ورزیوں کا تعین کیا جو ایرانی ساختہ ڈرون طیاروں اور میزائلوں کے ساتھ مربوط تھیں۔ اس ساز و سامان کو 2015 میں ہتھیاروں کے ارسال پر پابندی کے بعد یمن میں داخل کیا گیا"۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تہران نے حوثیوں کو اسلحے کی بلا واسطہ یا بالواسطہ فراہمی یا فروخت کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔ ان ہتھیاروں میں مختصر مار کے برکان 2 میزائل ، مائع شکل میں آکسائد کے ٹینکس اور ڈرون طیارے شامل ہیں۔

ماہرین کی طرف سے پیش کیے جانے والے نتائج اُن نتائج سے مماثلت رکھتے ہیں جو 2017 کے اواخر میں امریکی ماہرین کی جانب سے پیش کیے گئے۔

یاد رہے کہ یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے جمعرات کے روز ایک مرتبہ پھر اس موقف کو دُہرایا کہ حوثی جماعت کی جانب سے مرتکب خلاف ورزیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ایرانی نظام مسلح حوثی جماعت کے لیے مختلف نوعیت کی سپورٹ فراہم کرنے میں ملوث ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قرارداد (2216) اور (2231) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس دوران مملکت سعودی عرب اور علاقائی اور بین الاقوامی امن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گنجان آباد شہروں اور دیہات کی سمت بیلسٹک میزائلوں کا داغا جانا انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

کرنل المالکی نے عالمی برادری سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ وہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل اور ہتھیاروں کی دہشت گرد جماعتوں کو اسمگلنگ روکنے کے واسطے زیادہ سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے۔