.

"رجائی شہر" جیل : ایران میں موت کا گھاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بدنامِ زمانہ "رجائی شہر" جیل متعدد ایرانی کارکنان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا منظر دیکھ چکی ہے۔ ایک معروف ایرانی قیدی کے مطابق "جو کوئی اس میں داخل ہوتا ہے وہ زندہ افراد کی تعداد میں سے کم ہو جاتا ہے"۔

رجائی شہر جیل سے متعلق تازہ خبر یہ ہے کہ اس کے ڈائریکٹر غلام رضا ضیائی کا نام جمعے کے روز جاری ہونے والی امریکی پابندیوں کی نئی فہرست میں موجود 14 ایرانی شخصیات اور اداروں میں شامل ہے۔

رجائی شہر جیل ایرانی دارالحکومت تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر کرج میں ہے۔ اس کو جوہر دشت جیل یا کرج جیل اور رجائی شہر کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ یہ جیل 1981 میں تعمیر ہوئی۔ اُس وقت یہاں اُن لوگوں کو رکھا جاتا تھا جو ایفین جیل میں ایک برس سے زیادہ کا عرصہ تشدد اور تحقیقات کا سامنا کر چکے ہوتے تھے۔

اس جیل کی بُری ساکھ 1988 میں ہزاروں ایرانی سیاسی قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد اُجاگر ہوئی۔ عالمی سطح پر اس کا نام اس وقت مزید نمایاں ہوا جب 2 اگست 2016 کو ایران نے 21 سُنّی شہریوں کو یہاں موت کی نیند سُلا دیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطی کی ڈائریکٹر سارہ واٹسن نے اس واقعے کو ایران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر باعثِ عار قرار دیا تھا۔ حکام نے مذکورہ کُرد نژاد ایرانیوں کو پھانسی دے کر اُن کے کپڑوں اور ذاتی اشیاء کو جیل "جنگ کا مالِ غنیمت" قرار دے کر انہیں جیل میں موجود مجرموں میں تقسیم کر دیا۔

اکتوبر 2016 میں ایرانی سیاسی قیدیوں نے ایران میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی نمائندہ عاصمہ جہانگیر کو بھیجے گئے خط میں باور کرایا کہ وہ دھیرے دھیرے آنے والی موت کا شکار ہیں۔ خط قیدیوں نے بتایا کہ انہیں مطلوبہ مقدار میں کھانا نہیں ملتا اور بھوکا رکھا جاتا ہے۔ خط میں انکشاف کیا گیا کہ بدترین سلوک ، غفلت اور لا پروائی کے سبب خراب طبی حالت کا شکار ہو کر چھ قیدی فوت ہو گئے۔

مذکورہ جیل میں مختلف صورتوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ان میں شدید تشدد ، جنسی نوعیت کی پامالیاں اور طبی دیکھ بھال سے محروم کیا جانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ قدیوں کو جیل میں دیگر زیر حراست افراد کے ساتھ زیادتی پر بھی مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا۔

یاد رہے کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے فروری 2016 میں ایرانی جیلوں کی صورت حال کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں ان قیدخانوں میں ہونے والے واقعات اور کارروائیوں کی سخت مذمت کی گئی۔ رپورٹ میں باور کرایا گیا کہ ایران کی جانب سے جیلوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤں کی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

نومبر 2017 میں ایرانی مرکز برائے انسانی حقوق نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ رجائی شہر جیل میں روزانہ 10 سے 16 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی قیدیوں کو اہل خانہ سے رابطوں ، اخبارات دیکھنے اور طبی خدمات سے محروم رکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔