.

ریفرینڈم کے بعد پہلی بار کردستان کے وفد کی بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ کردستان میں گذشتہ برس آزادی کے لیے ہونےوالے ریفرینڈم کے بعد حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگے ہیں۔ کردستان اور بغداد میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک تازہ سفارتی اور سیاسی کوشش کی جا رہی ہے اربیل سے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد ریفرینڈم کے بعد پہلی بار بغداد کے دورے پر آ رہا ہے۔

کرد نیٹ ورک ’رووداؤ‘ نے ایک خبر میں اطلاع دی ہے کہ کردستان کی صوبائی حکومت کا ایک وفد بغداد جانے کے لیے تیار ہے۔ یہ وفد وزیر داخلہ قاسم الاعرجی سمیت دیگر وزراء کےساتھ بات چیت کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بغداد کے دورے پر جانے والے وفد کی قیادت صوبائی وزیر داخلہ کریم سنجاری کریں گے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کردستان پر عاید فضائی پابندیاں ختم کرنے، اربیل اور سلیمانیہ ہوائی اڈوں پر پروازوں کی بحالی اور عراق کے دستور کے مطابق گذرگاہوں کے مشترکہ کنٹرول پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

’العربیہ‘ کے مطابق گذشتہ برس ستمبر میں عراق کے صوبہ کردستان میں ہونے والے ریفرینڈم کے بعد اربیل اور بغداد میں تعلقات خراب ہوگئے تھے۔ عراقی حکومت نے کردستان میں آزادی ریفرینڈم کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر پابندیاں عاید کر دی تھیں۔ کئی ماہ کے تعطل کے بعد صوبے اور مرکز کے درمیان رابطہ بحال ہو رہا ہے۔

پچھلے سال ستمبر میں کردستان کی آزادی کے ریفرینڈم کے چار روز بعد 29 ستمبر عراقی حکومت نے کردستان کے اربیل اور سلیمانیہ ہوائی اڈوں سے پروازوں بند کردی تھیں۔

دسمبر کے آخر میں بغداد حکومت نے اربیل پر عاید فضائی پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کرتے ہوئے 28 فروری تک صوبائی ہوائی اڈوں کو پروازوں کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔