.

عراق میں پارلیمانی انتخابات، حیدر العبادی اور الحشد ایک کشتی میں سوار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جوڑ توڑ میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کل ہفتے کو ‘عراق حزب الدعوۃ‘ نے ’النصر والاصلاح‘ گروپ کی قیادت موجودہ وزیراعظم حیدرالعبادی کو سونپتے ہوئے ’دولت القانون‘ کےسربراہ نوری المالکی کو اس سے الگ کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’النصر والاصلاح‘ گروپ کی قیادت سنھبالنے کے بعد ایران نواز شدت پسند عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کی جانب سے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہفتے کے روز ‘نصرالعراق‘ کے نام سے تشکیل پانے والے اس نئے سیاسی اتحاد میں الحشد الشعبی کے قائدین اور اس سےوابستہ کئی دوسرے اداروں اور شخصیات نے بھی العبادی کی حمایت کا اعلان کیا۔

نصرالعراق نے انتخابات کے دوران ملک کی تعمیرو ترقی کا نعرہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ عراق کی سرزمین کی دہشت گردوں سے آزادی کے بعد اب تباہ حال عراق کی تعمیر اگلا چیلنج ہے۔

نصرالعراق نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے لیے اتحاد کا دروازہ کھلا رکھا ہے کہا ہے کہ نیا سیاسی اتحاد ملک کی نئی تشکیل اور دستور کے مطابق اداروں کی مضبوطی کے لیے پرعزم ہے۔

العبادی اور الحشد کی قیادت میں بننے والے اتحاد نے ملک میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور کرپشن کے خلاف بھرپور جنگ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

الفتح اتحاد میں ھادی العامری کی زیر قیادت بدر آرگنائزیشن،، ھمام حمودی کی سپریم کونسل، الحشد کے 8 گروپ، 11 جماعتیں، اور ابراہیم بحرالعلوم کی اعلیٰ سپریم کونسل کےرہ نما شامل ہیں۔