.

مصر کے خلاف اعلان جنگ سے متعلق سوڈانی سفیر کے بیان کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی وزارت خارجہ نے میڈیا میں زیر گردش قاہرہ میں سوڈانی سفیر کے اُس بیان کی تردید کی ہے جس میں سفیر عبدالمحمود عبدالحلیم نے کہا تھا کہ اُن کا ملک مصر کے خلاف اعلانِ جنگ کا ارادہ رکھتا ہے۔

سوڈانی وزارت خارجہ نے میڈیا پر الزام عائد کیا کہ سفیر کے بیان کو سیاق سے ہٹ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق روسی چینلRT" " نے خبر کو ایسی صورت میں پیش کیا جو اُس کے عنوان کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔

سوڈانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں باور کرایا کہ خرطوم حکومت دونوں برادر ملکوں کے درمیان امن و استحکام اور سلامتی کی خواہش مند ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سوڈانی سفیر اپنی بات چیت میں "سفیر کو مشاورت کے لیے طلب کیے جانے" کا معنی بیان کر رہے تھے۔ تاہم روسی چینلRT نے اُن کی گفتگو کو سیاق و سباق سے باہر کر کے غیر مناسب صورت میں پیش کیا۔

روسی چینل RT سمیت بعض ذرائع ابلاغ نے یہ خبر نشر کی تھی کہ مصر میں سوڈانی سفیر نے اخبارات کے چیف ایڈیٹروں سے گفتگو میں کہا کہ "ہم ابھی اپنے سفارتی طریقہ کار کے آغاز پر ہیں جو سفیر کو مشاورت کے لیے بُلانے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد سفیر کو واپس بُلا لیا جاتا ہے اور پھر اس کی واپسی نہیں ہوتی۔ تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ متعلہ ریاست کے سفیر کو ملک سے نکال دیا جائے۔ چوتھا اقدام یہ کہ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جائیں اور پانچواں اقدام اعلانِ جنگ ہے"۔

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ سوڈان کی جانب سے قاہرہ میں اپنے سفیر کو واپس بلا لینے کی وجہ سرحدی تکون حلایب کے حوالے سے جاری تنازع ہے۔