.

صنعاء کے مظاہروں میں خواتین نے قبائلی "عِمامے" کیوں پہنے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعاء کے وسط میں باغی حوثی ملیشیا کے خلاف ہونے والے خواتین کے مظاہرے میں قابل ذکر بات یہ تھی کہ احتجاج میں کئی خواتین نے وہ "عِمامے" (رُومال) پہن رکھے تھے جو قبائلی مرد اپنے سروں پر لپیٹتے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے ہفتے کے روز ہونے والے اس مظاہرے میں شریک سیکڑوں خواتین پر دھاوا بول دیا۔ ان میں سے کئی کو اغوا کر لیا گیا جو ابھی تک حوثیوں کی جیلوں میں ہیں۔ حوثیوں کے خواتین بریگیڈ "الزینبیات" کے ہاتھوں مار پیٹ کا نشانہ بننے والی خواتین کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

یمنی حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر زیر گردش تصاویر میں مظاہرے میں شریک خواتین کو اپنے سروں پر قبائلی مردوں کے انداز سے "عِمامے" رکھے ہوئے دکھایا گیا۔ ان کو "الشال" یا "الشماغ" بھی بولا جاتا ہے۔

اس اقدام کو خواتین کی جانب سے اُن قبائلی مردوں کے لیے ایک انتہائی اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اِن خواتین کو تنہا چھوڑ دیا۔ ایک ماہ کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب خواتین کے احتجاجی مظاہرے پر حملہ کیا گیا۔ ان مظاہروں میں شریک خواتین کی جانب سے ایک برس سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور حوثیوں کی لُوٹ مار کی مذمّت کی ، سیاسی طور پر گرفتار افراد کی رہائی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی میت حوالے کیے جانے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

احتجاج میں شریک ایک خاتون نے بتایا کہ جب اُس کے ایک مرد رشتے دار کو معلوم ہوا کہ وہ حوثیوں کے خلاف مظاہرے میں شرکت کے لیے جا رہی ہے تو اُس نے اپنا "عِمامہ" اُتار کر مذکورہ خاتون کو دے دیا اور کہا کہ "تم خواتین ہم سے زیادہ مردانگی اور دلیری رکھتی ہو"۔

خاتون نے واضح کیا کہ مردوں اور قبائلی افراد کو مظاہرے میں خواتین کی جانب سے دیے جانے والے اس پیغام کو سمجھنا چاہیّے۔ سب کو مل کر ایرانی نواز حوثی ملیشیا کے خلاف کھڑا ہونا چاہیّے جن کو خواتین پر حملہ کرتے ہوئے اُن کی حرمت کا بھی پاس نہیں رہتا۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک خواتین نے تمام لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جامع سول نافرمانی اور عوامی مزاحمتی تحریک کے لیے حرکت میں آئیں۔ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور بھی اپنے مطالبات اور موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے ان مظاہروں کے لیے بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے خواتین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں کو غیر مسبوق نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔