.

مصرمیں پہلی بار سیاحت اور ثقافت کی وازتیں خواتین کو تفویض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی حکومت نے پہلی بار کابینہ میں تبدیلی لاتے ہوئے سیاحت اور ثقافت کی وزارتیں دو خواتین کے سپرد کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری حکومت نے رانیا المشاط کو سیاحت اور ایناس عبدالدائم کو ثقافت کی وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

مصر میں یہ دونوں وزارتیں ماضی میں مردوں کے پاس رہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ یہ دونوں اہم وزارتیں خواتین کو سونپی گئی ہیں۔

سیاحت کا قلم دان سنھبالنے والی رانیا المشاط مرکزی مانیٹری پالیسی بنک کی گورنر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ملک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کیا۔ وہ پہلی اقتصادی ماہر ہین جنہوں نے امریکا میں عالمی مانیٹری فنڈ میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔

رانیا المشاط جامعہ القاہرہ کے پروفیسر اور پولیٹیکل اکنامک کالج کے استاد ڈاکٹر عبدالمنعم المشاط کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے امریکا کی میری لینڈ یونیورسٹی سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ میری لینڈ میں الاصلاح فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ ڈپٹی ڈائریکٹر اور دیگر متعدد شعبوں میں کام کیا۔

رانیا المشاط نے سنہ 2004ء میں ایک ریسرچ پیپر کی تیاری میں حسن کار کردگی کا مظاہرہ کرنے پر ابن خلدون ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

مصر میں نو منتخب وزیر ثقافت اینا عبدالدائم دارالاوبرا کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں۔ انہوں نے فرانس سے موسیقی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے رکھی ہے۔

عبدالدائم اس سے قبل 2003ء اور 2004ء کے دوران قاہرہ آکسٹرا سیفونی کی ڈائریکٹر اور کونسل فتوار انسٹیٹیوٹ کی ڈین اور متعدد دیگر عہدوں پر فائز رہی ہیں۔

اخوان المسلمون کے دور حکومت میں موسیقی کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر عبدالدائم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اخوان حکومت کی فن اور فنکاروں کے مخالف اقدامات پر کڑی تنقید کی تھی۔