.

دو بھارتی بہنیں سعودی عرب میں اونٹوں کے میلے میں کیا کر رہی ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت ریاض کے مشرق میں واقع الدہناء کے صحرا کے جنوب میں ان دنوں سالانہ کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول جاری ہے۔ رواں برس اس مقبول میلے میں دو بھارتی بہنیں نیلو اور گوری مٹی کے فن پارے تشکیل دینے کے سبب لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔

اس سلسلے میں نیلو نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہم کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول میں شرکت کے لیے بھارت سے آئے ہیں۔ ہمیں شرکت کی دعوت موصول ہونے پر بہت مسرّت ہوئی اور اب ہم مٹی اور ریت پر فن پارے تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم نے بہت سے مجسم ماڈلز بنائے جن میں سعودی عرب کے نقشے پر ویژن 2030 شامل ہے۔ اس کے علاوہ اونٹ کے رکھوالے کا باز اور شکرے کے ساتھ بھی مجسّماتی فن پارہ شامل ہے۔ اس منصوبے کے لیے ریت کے 14 ٹرک استعمال میں لائے گئے۔

نیلو کے مطابق صحرائی منظر پیش کرنے کے لیے اونٹ پر رکھی جانے والی "زین" ، اُس پر قالین اور ان کے علاوہ اونٹوں کے رکھوالے کے کپڑے اور سر پر پہنا جانے والا عربی رومال الشماغ بھی فن پارے میں پیش کیا گیا۔

نیلو کا کہنا تھا کہ وہ سعودی نوجوانوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہے کہ "زندگی مشکلات اور چیلنجوں سے بھری ہوئی ہے ، جو کچھ بھی ہو آپ پر لازم ہے کہ ہمّت نہ ہاریں اور اپنے مشغلے سے دست بردار نہ ہوں۔ یقین جانیے آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر رہیں گے"۔

نیلو نے بتایا کہ اونٹوں کے قافلے کے فن پارے میں مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کی عکاسی کی گئی جو مملکت کے پرچم تھامے ہوئے ہیں۔

نیلو نے انکشاف کیا کہ سہ جہتی (3D) اونٹ اور اونٹوں کے قافلے کو فن پارے کی صورت دینے میں پانچ روز لگ گئے جب کہ سعودی عرب کے نقشے پر ویژن 2030 پروگرام کو مجسّم شکل دینے میں تین روز کا وقت درکار ہوا۔

نیلو نے خاص طور پر بتایا کہ مملکت میں جدیدیت کے باوجود سعودی باشندوں نے اپنی ثقافت ، قومی لباس ، چائے ، قہوہ ، رسم و رواج ، سلام کے تبادلے ، ہمدردی اور انسان دوست جذبات کو مضبوطی سے تھاما ہوا ہے.. وہ بھی ایسی صورت میں جو دنیا میں کسی دوسری جگہ دیکھنے میں نہیں آتی۔

نیلو نے بتایا کہ اس کام میں شریک اُس کی بہن گوری دراصل میکینکل انجینئر ہے جب کہ نیلو خود بچپن سے ہی ریت اور مٹی سے فن پارے تیار کرنے کا شوق رکھتی تھی۔ نیلو کے مطابق اُن دونوں کا سعودی عرب کا دورہ ان کے فنی کیرئر کا 60 واں منصوبہ ہے۔ دونوں بہنیں ریت سے تیار کردہ فن پاروں کا ایک میوزیئم بنانے کی خواہش مند ہیں جہاں سعودی لوک ورثہ اپنی تمام تر شکلوں کے ساتھ موجود ہو۔