.

چچا زاد کو قتل کرنے والے سعودی ’داعشی‘ کے خلاف مقدمہ کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوجی عدالت نے شدت پسند گروپ ’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی جنگجو کے خلاف چچا زاد کے قتل کے جرم میں مقدمہ چلانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطاق سنہ 1436ھ میں عید الاضحیٰ کے ایام میں پیش آنے والے اس دہشت گردانہ واقعے نےعوام میں غم غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق داعشی دہشت گرد نے الشملی گورنری کے علاقے حائل سے تعلق رکھنے والے اپنے چچا ازاد مدوس فائز عیاش العنزی کو دھوکے سے بلا کر قتل کردیا۔

اس سے قبل بھی مجرم دو دیگر کیسز میں ملوث رہا ہے۔ عمائر بن صنعاء پولیس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا جب کہ ایک دوسرے فائرنگ میں عبدالالہ بن سعود براک الرشیدی بھی جاں بحق ہوگیا تھا۔

ملزم کے خلاف ٹرائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عدالتی مشیر عبدالعزیز بن باتلنے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ملزم کے خلاف تمام شواہد جمع کرلیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داعشی دہشت گرد کے خلاف اس کے چچا زاد کے قتل کا مقدمہ چلانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ملزم نے دھوکے سے اپنے چچا زاد کو قتل کیا اور اس کے خلاف دھوکے سے قتل اور فساد فی الارض کے تحت مقدمہ چلایا جائےگا۔ مقدمہ کی کارروائی کے دوران انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیےاسے قانونی معاونت کے حصول کی اجازت ہوگی۔