.

امریکا شمالی کوریا کے بحران کا سفارتی حل چاہتا ہے : ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک شمالی کوریا کے ساتھ بحران کے کسی سفارتی حل تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا وہائٹ ہاؤس کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف محدود فوجی کارروائی بھی زیرِ غور ہے۔ ٹیلرسن نے یہ بات کینیڈا کے ساحلی شہر وینکوور میں واشنگٹن کے حلیف ممالک کے عہدے داروں کے ساتھ اجلاس کے بعد کہی۔

امریکی وزیر خارجہ اُن رپورٹوں کا جواب دے رہے تھے جن میں بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض ذمّے داران ایک فوجی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو شمالی کوریا کی ناک "خاک آلود" کر دے۔

وینکوور کے اجلاس میں شریک 20 ممالک نے سفارتی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے ابھی تک خود کو "مذاکرات میں ایک قابل اعتبار شراکت دار کے طور پر" ظاہر نہیں کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بات چیت پیونگ یانگ کی جانب سے اپنائے گئے دھمکی آمیز برتاؤ کے سبب ایک "مسلسل وقفے" کی متقاضی ہو گی۔

ٹیلرسن نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا ٹرمپ نے کِم جونگ اُن سے ٹیلی فون پر براہ راست بات چیت کی۔