.

امریکا نے فلسطینیوں کے لیے مختص 6.5 کروڑ ڈالر منجمد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا کے ذریعے فلسطینیوں کو دی جانے والی امداد کے نصف حصّے کو روکنے کا مقصد، ایجنسی میں اصلاحات کے لیے امریکا کی خواہش پر عمل درامد ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اس اقدام کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں"۔

اس سے قبل منگل کے روز امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ امریکا فلسطینیوں کی مدد کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی ایجنسی اونروا کو 6 کروڑ ڈالر کی امداد پیش کرے گا۔ (تاہم وہ 6.5 کروڑ ڈالر روک لے گا تا کہ مستقبل میں اس پر نظرثانی کی جا سکے)۔

مذکورہ اہل کار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ انروا ایجنسی کو جو غزہ پٹی کی آبادی کے بڑے حصّے کو سپورٹ کرتی ہے، اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کے کام کرنے اور فنڈنگ کے طریقے کا بنیادی طور پر از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا اونروا ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے دو جنوری کو ایک اعلان میں کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں کو پیش کی جانے والی مالی رقوم روک دیں گے۔ ٹرمپ نے فلسطینیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسرائیلیوں کے ساتھ امن بات چیت میں شریک ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور "سالانہ کروڑوں ڈالر کی امداد کے جواب میں ہمیں کسی قسم کا احترام نہیں ملا"۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی سات جنوری کو اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا پر شدید نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اونروا کو دنیا سے غائب ہو جانا چاہیّے۔ نیتنییاہو نے الزام عائد کیا کہ انروا اسرائیلی ریاست کو تباہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومتی اجلاس کے دوران نیتنیاہو کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے اونروا ایجنسی پر شدید تنقید سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔