.

ایران اور شام کے قبرستانوں میں مدفون نامعلوم افراد کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور شام میں گذشتہ کچھ عرصے سے بڑی تعداد میں نامعلوم افراد کو دفن کیاجاتا رہا ہے مگر یہ نامعلوم افراد کون ہوسکتے ہیں اور انہیں اسد رجیم یا ایرانی حکام قومی پرچموں میں کیوں کر دفن کرتے رہےہیں؟۔

تجزیہ نگاروں نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ شام میں سرکاری فوج کی جانب سے ’نامعلوم‘ قرار دیے گئے مردہ افراد وہ غیرملکی جنگجو ہوسکتے ہیں جنہیں ایران کی طرف سے شام میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ان میں پاکستان اور افغانستان سے لائے گئے جنگجو ہوسکتے ہیں۔ ایران اور شام دونں ملک ان ممالک سے لائے گئے جنگجوؤں کی شناخت مخفی رکھنے کی دانستہ کوشش کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں ماہ 14 جنوری کو شام میں نامعلوم مقتولین کے ایک گروپ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ یہ تمام وہ افراد تھے جو پچھلے سال کے آخری ایام میں اسدی فوج کے ساتھ باغیوں سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔ لڑائی کے وقت ان لوگوں کی شناخت شام میں اسد رجیم کی حمایت میں لڑنے والے غیرملکی جنگجوؤں کے طور پر ہوئی تھی۔

گذشتہ برس کے وسط میں بھی شام میں 22 افراد کو ’نامعلوم‘ قرار دے کر انہیں دفن کیا گیا۔ یہ تمام جنگجو حماۃ کے نواحی علاقے البرغوثیہ میں مارے گئے تھے۔ سات ماہ گذرنے کے باوجود بھی اسد رجیم اور سرکاری فوج ان کی شناخت ظاہر نہیں کرسکی۔

ان نامعلوم مقتولین کو حمص کی ارمن کالونی میں دفن کیا گیا۔ تدفین کے موقع پر شامی فوج کے سینیر افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

نامعلوم مقتولین اسد رجیم کے وفادار

جنوری 2017ء میں شام سے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ ’اللاذقیہ‘ گورنری کے علاقے کفر دبیل میں درجنوں نامعلوم مقتولین کو دفن کیا گیا۔ کفر دبیل مقام پر ہلاک ہونے والے نامعلوم افراد کی تدفین بھی سرکاری اعزازا کے ساتھ کی گئی تھی۔

اللاذقیہ کے نواحی علاقے الجبلہ میں بھی متعدد افراد کو نامعلوم قرار دے کر دفن کیا گیا۔ یہ لوگ ایک مقامی اسٹیڈیم میں ہونےوالے دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اسد رجیم کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 تھی۔

حمص شہر میں دفن کیے گئے 22 نامعلوم افراد کے بارے میں اسد رجیم کے حامیوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پربھی خبر جاری کی تھی۔ اسد رجیم کی حمایت کرنے والوں نے بھی مقتولین کو نامعلوم قرار دے کر دفن کرنے کی پالیسی کی شدید مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کیا ان مقتولین کا کوئی وارث نہیں۔ شام میں انہیں نامعلوم قرار دے کر دفن کرنا سرار باعث عار ، تباہی اور فساد ہے۔

مختلف اوقات میں 82 نامعلوم لاشیں

جنوری 2016ء میں شام کے الفردوس قبرستان میں اسدی فوج کے ہمراہ لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے 10 افراد کو نامعلوم قرار دے کر دفن کیا گیا۔ یہ تمام افراد تدمر کے مقام پر 2015ء کے آخر میں ہلاک ہوئے تھے۔

شامی فوج کے ایک بریگیڈیئر حسن احمد نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ الفردوس قبرستان میں دفن کیے گئے تمام لاشیں نامعلوم افراد کی ہیں۔

ساحلی شہر طرطوس میں 33 مقتولین کو نامعلوم قرار دے کر انہیں دفن کیا گیا۔ 2013ء میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ اسدی فوج کے ہمارہ لڑنے والوں میں بڑی تعداد میں نامعلوم جنگجو شامل ہیں۔

اگست 2014ء کو حمص شہر کے الفردوس قبرستان میں 39 افراد کو دفن کیا گیا۔ ان کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی۔

تہران میں 194 نامعلوم افراد کی تدفین

شام کی طرح ایران میں بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ نامعلوم افراد کی تدفین کی جاتی رہی ہے۔ مگر ایرانی حکومت ان مقتولین کو’نامعلوم شہداء‘ کا لقب دیتی رہی ہے۔ سال 2009ء میں ایران میں شروع ہونے والی عوامی انتفاضہ کے دوران پانچ افراد کو نامعلوم شہید قرار دے کر دفن کیا گیا۔

مارچ 2017ء میں عراق جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 224 افراد کو نامعلوم شہید قرار دیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ان مقتولین میں سے 30 کی شناخت کرلی گئی تھی۔ تاہم مجموعی طورپر اس عرصے کے دوران 194 افراد کو نامعلوم قرار دے کردفن کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مقرب ایک جنرل سعید قاسمی نے 2016ء میں دسیوں افغان جنگجوؤں کو راز داری میں قبرستانوں میں دفن کرنے کی پالیسی پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں لڑائی کے لیے بھیجے گئے دسیوں جنگجو ہلاک ہوئے، ان کی میتیں ایران میں لائی گئیں مگر بغیر کسی سرکاری پروٹوکول کے انہیں دفن کیاگیا۔

ذرائع ابلاغ ان جنگجوؤں کی تعداد 70 بتاتے ہیں اور ان کا ممکنہ طور پر تعلق پاکستان اور افغان شیعہ ملیشیا سے بتایا جاتا ہے۔