.

مصرمیں میڈیکل کے 1200 طلباء ’صفر‘ سے کیسے فیل ہوئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی المنصورہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں چھٹے سمسٹر کے 1200 طلباء صفر سے فیل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر سعید عبدالھادی نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام اور محکمہ تعلیم کے ماہرین پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے طلباء کی طرف سے سرجری کےپرچے کا بائیکات کرنے کو بلا جواز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم حتمی رپورٹ ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالھادی نے کہا کہ سرجری کےجس پرچے کا طلباء نے بائیکاٹ کیا اس کے کل نمبر 130 تھے۔ جب کہ طلباء کو 900 نمبروں کے پرچےدینا ہیں۔ان میں سے 770 نمبروں کے پرچے اس کے علاوہ ہیں۔

ان ایک سو تیس نمبروں کے لیے طلباء کو پانچ روز تک امتحان دینا تھا۔ اس دوران تین دن تحریری امتحان اور دو دن عملی امتحان ہونا تھا۔ طلباء نے پہلے دو دن پیپر دیئے اور تیسرے دن پیپر کو مشکل اور نصاب سے آؤٹ قرار دے کر بائیکاٹ کردیا۔

ڈاکٹر سعید عبدالھادی نے بتایا کہ انہوں نے طلباء کی جانب سے جس پرچے کا بائیکاٹ کیا وہ تین دوسری جامعات جامعہ القارہ، جامعہ عین الشمس اور جامعہ اسکندریہ کو بھیجا تاکہ وہ بھی پرچے کے معیار کو دیکھ کر بتاسکیں کہ آیا طلباء کا اعتراض کس حد تک مناسب ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں مصر کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے امتحانات میں سرجری کے پرچے میں شامل سوالات نصاب سے باہر سےدیے گئے تھے اور سیکڑوں طلباء نے پرچہ حل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

طلباء کی جانب سے پرچہ دوبارہ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نےسرجری پرچے کا دوبارہ امتحان لینے کا مطالبہ مسترد کردیاتھا۔

طلباء نے نصاب سے باہر سے سوالیہ پیپر دینے پر انتظامیہ کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

طلباء کی جانب سے پرچے کے بائیکاٹ کے لیے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ بارہ سو طلباء پرچہ تقسیم کیے جانے کے 35 منٹ بعد امتحانی ہال سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔ انہوں نے مشکل سوالیہ پرچہ دینے پر کالج کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور پرچہ دوبارہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ نے سوالیہ پرچے پر طلباء کے اعتراضات کا جائزہ لیا جس کے بعد کہا گیا ہے کہ پرچم نصاب کے اندر اور متعلق کلاس کے معیار کے مطابق تھا۔ طلباء کی طرف سے پرچہ مشکل ہونے کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔