.

شام کے کُردوں اور ترکی کے درمیان نئی جنگ کی تیاری

ترکی اور کرد ملیشیا کی باہمی لڑائی سے لاکھوں افراد متاثر ہوسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد آبادی کی مرکزی سیاسی جماعت ’ڈیموکریٹک الائنس‘ نے ترکی کی جانب سے شام کے علاقے ’عفرین‘ پر کی جانے والی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی کو جارحیت سے روکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام کی کرد جماعت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ شمالی شام میں ترکی ننگی جارحیت کا مرتکب ہے اور ترکی کی وحشیانہ بمباری سے عفرین کی ایک ملین آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔

بیان میں عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ترکی کو عفرین اور دیگر کرد علاقوں میں بمباری سےروکنے کے لیے انقرہ پر دباؤ ڈالے ورنہ عفرین کی ایک ملین شہری آبادی کی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

بیان میں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ سے بھی فوری حرکت میں آنے اور ترکی کو فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹک الائنس کا کہنا ہے کہ شمالی شام کا دریائے فرات کا مغربی اور مشرقی علاقہ محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر ترکی کی جانب سے اسے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے سلامتی کونسل اور عالمی برادری عفری اور دیگر کرد علاقوں میں موجود شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرے۔

کرد جماعت نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کرد ملیشیا تیار ہے۔ صرف عفرین ہی نہیں بلکہ روج آفا، شمالی اور مشرقی شام کے علاقوں میں بسنے والے کرد اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔

علاقے کو ایردوآن کے مصائب سے نجات دلانے کا عزم

کرد ملیشیا کی پروٹیکشن یونٹس کے سربراہ سیبان حمو نے کہا ہے کہ کرد فورسز علاقے کو ترکی اور ایردوآن کے مصائب سے نجات دلانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ کرد ملیشیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منگل کے روز جاری کردہ اس اعلان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے شمالی شام میں کردوں کے تحفظ کے لیے ایک نیا لشکر تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

کردوں کی مقرب خبر رساں دارے’فرات نیوز ایجنسی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سیبان حمو نے کہا کہ ان کی فورسز روج آفا اور عفرین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ مشرقی شام کے اس کرد اکثریتی علاقے کو کرد اپنے طور پر ’روج آفا‘ یعنی مغربی کرستان کا نام دیتے ہیں۔

کرد ملیشیا کے لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ترک صدر طیب ایردوآن نے کردوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ انقرہ میں اپنی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلد یا بدیرہم دہشت گردوں کے یکے بعد دیگرے تمام ٹھکانوں کو تباہ کریں گے۔ منبج سے لے کر عفرین تک کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہے گا۔

عفرین کی سیاسیی اور جمغرافیائی اہمیت

شام میں کرد آبادی کے اکثریتی شہروں میں عفرین کا علاقہ سیرین ڈیموکریٹک فوسز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس علاقے پرکردوں کی حمایت یافتہ پروٹیکشن یونٹس کا کنٹرول ہے جب کہ ترکی اسے باغی اور دہشت گرد گروپ سے مربوط قرار دیتا ہے۔

عفرین کردوں اور ترکی دونوں کے لیے سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔ عفرین دریائے عفرین کے دونوں کناروں پر شام کے شمالی مغرب میں پھیلا ہوا ہے۔ مشرقی حلب میں اس کے بالمقابل اعزاز شہر واقع ہے اور جنوب سے جنوب مغربی میں ادلب گوریر اور شمال مغرب کی جانب ترکی کی سرحد ہے۔

عفرین کا بیشتر علاقوں پہاڑوں پر مشتمل ہے اور اس کا کل رقبہ 3850 مربع کلومیٹر ہے جوکہ شام کے کل رقبے کا محض دو فیصد ہے۔ ترکی کی سرحد پر پھیلا یہ علاقہ جغرافیائی طورپردوسرے کرد علاقوں سے الگ تھلگ ہے۔

ترکی کی دھمکی

بین الاقوامی عسکری اتحاد اور امریکا کا خیال ہے کہ شمالی شام میں کردوں کی فورس تشکیل دے کر علاقے میں داعش کی واپسی کی راہ روکی جاسکتی ہے مگر ترک صدر طیب ایردوآن اسے کردوں کو ایک مستقل ٹھکانہ مہیا کرنا اور انہیں ترکی میں داخل ہونے کے لیے نیا دروازہ فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک فوج نے شام میں کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس دہشت گرد گروپ کو اس کی اپنی سرزمین پر تباہ کریں گے۔

ترک آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی لمحے شمالی شام کے علاقوں عفرین اور منبج میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔