.

شامی پناہ گزینوں کے مصائب کی تازہ لرزہ خیز تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری تباہ کن خانہ جنگی کے دوران اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے پناہ گزینوں پر ہرجگہ عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے۔ حال ہی میں ذرائع ابلاغ نے شام سے بیرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات اور مصائب پر مبنی رونگٹے کھڑے کرنے والی تصاویر جاری کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں شام سے ایک خاندان طویل سفری صعوبتوں کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے لبنان کی جانب روانہ ہوا۔ مگر پورا خاندان بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں شام کے حسن عید اور مشعل العلالی ان بیسیوں خاندانوں میں شامل ہیں جو شام میں بے سروسامانی کے عالم میں گھر سے نکل کریا تو مشکل حالات میں پھنس گئے یا جرائم پیشہ مافیا کے ہتھے چڑھ گئے۔ لبنان کے مقامی ذرائع کے مطابق عنجر، مجدل عنجر اور الصویری کے علاقے اس طرح جرائم پیشہ عناصر کے مرکز بتائے جاتے ہیں۔

گذشتہ دو سال سے لبنانی فورسز نے سرحد پر نگرانی سخت کردی ہے اور شام سے شہریوں کی لبنان کی طرف نقل مکانی کافی مشکل ہوچکی ہے مگر شامی پناہ گزین ان جرائم پیشہ اور انسانی اسمگلر عناصر کی معاونت حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شام سے اوسطا یومیہ 200 خاندان غیرقانونی طور پر لبنان میں داخل ہو رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شدید برف باری اور سردی کے حالیہ موسم کے دوران شام سے فرار ہو کر لبنان آنے کی کوشش کرنے والے دو خاندانوں کے 3 بچوں سمیت 12 افراد سرحد پر ٹھٹھر کر ہلاک ہوگئے۔ ان کی لاشیں حال ہی میں جبل الصویری سے ملیں جو برف میں جم چکی تھیں۔ ہلاک ہونے والے تین بچوں کی لاشیں المنارہ اسپتال منتقل کی گئی ہیں جب کہ دیگر افراد کی متیں حب جنین اسپتال لائی گئیں۔

لبنانی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام سے نقل مکانی کرنے والے 9 افراد کی لاشیں سرحدی پہاڑی علاقے الصویری سے ملیں جب کہ چھ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکے اور دم توڑ گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ مذکورہ تمام افراد خلسہ کے علاقے میں جانے کی کوشش کررہے تھے مگر طویل سرحدی راستے اور یخ بستہ برفیلے موسم کےباعث وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔