.

شام میں ترکی کا آپریشن ’استحکام‘ کوتباہ کرنے کی کوشش ہے: امریکا

ترک فوج نے شام میں عفرین کے مقام پر حملہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج نے شام کے کرد اکثریتی علاقے عفرین پر حملہ کردیا ہے۔ ترک فوج کی جانب سے عفرین میں کردوں کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ترک فوج کی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

العربیہ کے مطابق امریکی حکومت نے ’عفرین‘ میں ترک فوج کی کارروائی کو ’ شام میں’عدم استحکام‘ کی سازش قرار دیا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی حکام نے ترک فوج کی شام میں مداخلت کو ایک بار پھر مستردکردیا گیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نےکہا کہ شمالی شام میں ترک فوج کی کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شام میں عدم استحکام کا موجب بن سکتی ہے۔

درایں اثنا روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ شمالی عفرین میں کفر جنہ اور اطراف میں موجود روسی فوج کو وہاں سے نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے عفرین سے روسی فوج کی نبل اور الزھراء کی طرف نکالے جانے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

لافروف کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں امریکا کی جانب سے ایک نئی فورس کی تشکیل شام کی وحدت کےمعاہدوں کےخلاف ہے۔

خیال رہے کہ کل جمعہ کو ترک فوج نے عفرین پر بھاری توپ خانے سے حملے شروع کیےتھے۔ ان حملوں کا مقصد عفرین میں موجود ترک جنگجوؤں کے مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔ ترک وزیر دفاع نورالدین جانکیلی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا وقت اس کی کامیابی سے مربوط ہے۔ یہ آپریشن جتنا موثر ہوگا اتنا ہی کامیاب ہوگا۔

ترک فوج کے ٹینک اور بڑی تعداد میں بکتر بند گاڑیاں شام کے اندر دخل ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں جمعرات کو امریکی وزارت خارجہ نےترکی پر شام میں فوجی کارروائی سے گریز پر زور دیا تھا۔