.

عفرین میں کردوں کے ٹھکانوں پر ایک بار پھر بم باری کی ہے: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز شام کے شمال میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم پر نئے حملے کیے ہیں۔ اس دوران عنقریب سرحد پار زمینی حملہ بھی نظر آ رہا ہے۔

فوج کے مطابق اپنے دفاع کے سلسلے میں کی جانے والی کارروائی میں اُن کرد جنگجوؤں کے عسکری کیمپوں اور خفیہ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جن کو انقرہ دہشت گرد شمار کرتا ہے۔ تازہ ترین حملے کردوں کے زیر کنٹرول عفرین شہر سے ہونے والی فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔ فوج کے مطابق جمعے کے روز بھی کردوں کے خلاف مماثل کارروائی کی گئی تھی۔

اس سے قبل روسی ویب سائٹوں نے بتایا تھا کہ عفرین شہر کے مقابل شام کی سرحد پر ریڈار میں خلل ڈالنے کی قدرت رکھنے والا ترکی کا نظام "کورل" نمودار ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترک فوج کرد فورسز کے خلاف حملوں کے دوران اس نظام سے مدد لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ترک اخبارات ے مطابق کورل نظام کے نتیجے میں رات کے وقت امریکی اور روسی طیاروں کی اڑان کا سلسلہ رک گیا ہے کیوں کہ یہ نظام جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظاموں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب ایک کرد ذمّے دار نے انکشاف کیا ہے کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز SDF کی جانب سے سرحدی محافظین کی پہلی کھیپ آج نکلے گی۔ اس فورسز کا مقصد عراق ، ترکی اور دریائے فرات کے درمیان واقع کُردوں کے زیر کنٹرول علاقے کا دفاع کرنا ہے۔

ادھر ترکی کے وزیر دفاع نورالدین جانکلی نے باور کرایا ہے کہ کارروائی کا آغاز واقعتا سرحد پار بم باری کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ابھی تک سرحد کو عبور نہیں کیا گیا ہے جب کہ شام کے ساتھ ترکی کی سرحد پر عسکری کمک پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔