.

محاذوں پر شکست کے بعد حوثیوں نے میزائل حملے تیز کردیے: المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو محاذ جنگ پر بدترین شکست کا سامنا ہے اور انہوں نے اس شکست کے بعد سعودی عرب پر میزائل حملے تیز کردیے ہیں۔

’العربیہ‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کرنل المالکی نے کہا کہ حوثی شدت پسندوں کی طرف سے شہری آبادی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جو حوثیوں کا انسانی حقوق کی سنگنین پامالیوں کا واضح ثبوت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کو محاذوں پر شکست کا سامنا ہے جس کے بعد انہوں نے سعودی عرب کی شہری آبادی پر میزائل حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن کی سرکاری فوج اور مزاحمتی ملیشیا اتحادی فوج کی معاونت سے تیزی کے ساتھ پیش رفت کررہی ہے۔ تہامہ کے ساحل اور نھم کے فرضہ محاذ پر باغیوں کوپسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نھم کے قرضہ مرکز سے آئینی فوج صرف 20 کلومیٹر دور ہے۔ اس شکست کے باعث باغیوں نے میزائل حملے تیزکردیے ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حوثی باغی یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں تک امداد پہنچانے کے منصوبے کو ناکام بناناچاہتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ حوثیوں کی طرف سے امداد کی رسائی میں رکاوٹ عالمی برادری کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔

کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے اندر اور سعودی عرب کے خلاف استعمال ہونے والے میزائل اور حوثیوں کے دیگر ہتھیار انہیں ایران کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کو حوثیوں تک اسلحہ اور بیلیسٹک میزائل پہنچانے کی کڑی نگرانی کرے۔