.

کیا ایران کی معیشت پاسداران انقلاب کے شکنجے سے نکل پائے گی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر دفاع کے ایک اعلان کے مطابق ایران کے سپریم رہ نما علی خامنہ ای نے ایرانی ملسح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی کو یہ مشن سونپا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب ، فوج اور وزارت دفاع کی ایرانی معیشت میں مداخلت کا تعین کرے۔ یہ اقدام عوامی سطح پر ہونے والے شدید احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے جس کے دوران شہریوں نے ملک کی معیشت پر پاسداران انقلاب کے غلبے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

ہفتے کے روز سرکاری اخبار "ايران" سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خاتمی کا کہنا تھا کہ "ایرانی جنرل اسٹاف کمیٹی مسلح افواج کے غیر متعلقہ اقتصادی سرگرمیوں سے باہر آنے کے لیے سپریم رہ نما کے احکامات پر عمل درامد کرے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو اقتصادی بحرانات کا سامنا ہے۔ ان میں مہنگائی ، نرخوں میں اضافہ ، بے روزگاری اور ٹیکسوں میں بڑھوتی کے چینلج اہم ترین ہیں۔ اس صورت حال کے خلاف ایران میں 27 دسمبر سے ملک گیر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریبا دو ہفتے جاری رہا۔ ادھر ایران کی جانب سے علاقائی توسیع اور دہشت گرد تنظیموں کی سپورٹ کی پالیسی پر عسکری اخراجات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے مقابل نئی بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی معیشت کا پہّیہ جام ہو جائے گا۔

ماہرین معیشت کے نزدیک ایرانی سپریم رہ نما کے زیر انتظام سکیورٹی ، عسکری اور دیگر اداروں کا معیشت پر غلبہ اقتصادی ترقی ، نج کاری اور سرمایہ کاری لانے کی راہ میں مرکزی رکاوٹیں ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ایرانی مسلح افواج نے مختلف سیکٹروں میں مالی اور اقتصادی ادارے قائم کیے۔ ان میں سرِفہرست پاسداران انقلاب کے زیر انتظام اقتصادی ادارے ہیں۔

ایرانی وزارت دفاع کے پاس بھی عسکری صنعت کی کمپنیوں کے علاوہ کئی دیگر کمپنیاں ہیں۔ ان میں برقی آلات کی صنعت ، سِول ڈیولپمنٹ اور توانائی کے ذرائع سے متعلق کمپنیاں شامل ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران ایرانی فوج نے بھی اقتصادی ادارے بنائے۔ ان میں حکمت بینک کے علاوہ مرکزِ "قائم" ، صنعتی مجموعہ "اسبادانا" اور "صبا" انشورنس کمپنی شامل ہے۔

ادھر توانائی ، ٹیلی کمیونی کیشن اور مواصلات کے سیکٹروں میں تعمیرات اور انفرا اسٹرکچر سے متعلق کئی ایرانی منصوبے پاسداران انقلاب اور اس کی کمپنیوں کے زیر انتظام مرکز "خاتم الانبیاء" کے حوالے کیے گئے۔

تہران کی بلدیہ نے 2015 میں شہری منصوبوں پر عمل درامد کے لیے "خاتم الانبياء" مرکز کے ساتھ 20 ارب تومان کا معاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ یہ مرکز تیل اور جہاز سازی کے شعبوں میں متعدد نئے معاہدے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب 80ء کی دہائی کے اواخر میں عراق کے ساتھ جنگ کے اختتام کے بعد "تعمیرِ نو" کے نعرے کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کی جانب متوجہ ہوئی... اور آج وہ معیشت کے تمام شعبوں پر قبضہ جما چکی ہے جہاں نجی سیکٹر کا اس کے ساتھ مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔

پاسدران انقلاب اس وقت 100 کے قریب کمپنیوں کو چلا رہی ہے جن کی مجموعی قیمت تقریبا 12 ارب ڈالر ہے۔ ان کمپنیوں میں 40 ہزار کے قریب افراد ملازمت کر رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب بلیک مارکیٹ میں اپنی سرگرمیاں باسیج ملیشیا کے ذریعے انجام دیتی ہے۔ اگرچہ اسے خطیر منافع حاصل ہوتا ہے تاہم وہ ریاست کے بجٹ سے بھی فیاضی کے ساتھ فنڈنگ کی حق دار بنتی ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2017 میں امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے نتیجے میں 40 ایرانی اداروں ، افراد اور اہل کاروں کے اثاثے منجمد ہو گئے اور ان پر سسفری پابندیاں بھی لگ گئیں۔ ان میں پاسداران انقلاب اور "خاتم الانبیاء" مرکز کے قائدین اور کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی کی حکومت نے 21 مارچ سے شروع ہونے والے آئندہ سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے مختص رقم کو 39% تک بڑھا کر تقریبا 10.3 ارب ڈالر کر دیا۔

سال 2017 میں عام بجٹ میں پاسداران انقلاب کے لیے مختص رقم کو گزشتہ برس کی نسبت 53% بڑھا دیا گیا اور اس کا مجموعی حجم 6.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ جون 2013 میں روحانی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے فوج ، پاسداران انقلاب ، رضاکاروں کی فورس "باسیج" اور جنرل اسٹاف کمیٹی کے لیے مختص بجٹ میں تقریبا 80% تک اضافہ ہوا ہے۔