.

"القاعدہ کے مؤرخ" کی ویب سائٹ کا تہران سے دوبارہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کے ایک نمایاں ترین مؤرخ ابو الولید مصطفی حامد نے تہران سے اپنی ویب سائٹ "مافا" کے ذریعے بنیاد پرست جماعتوں کے باریک بینی سے جائزے سے متعلق اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا ہے۔ ابو الولید کا نام دہشت گردی سے متعلق امریکی وزارت خزانہ کی فہرست میں شامل ہے۔

اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے دوست ابو الولید نے 2016 میں اپنے بیٹوں کے ساتھ قطر سے ایک مرتبہ پھر تہران آ کر وہاں مستقل قیام کا فیصلہ کیا۔ ابو الولید 11 ستمبر کے واقعات کے بعد 2002 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایران میں قیام کے لیے آ گیا تھا۔ اُن کے ساتھ القاعدہ کے رہ نماؤں کا مجموعہ اور بن لادن کے بہت سے گھر والے بھی تھے۔

ابو الولید المصری اور اسامہ بن لادن کے بقیہ داماد سيف العدل اور الاسلامبولی 25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد فوجی حکومت کے دوران مصر لوٹ آئے تھے۔ بعد ازاں الاخوان المسلمون تنظیم کی جانب سے مصر کا اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ترکی ، قطر اور ترکی کوچ کر گئے۔ ابو الولید کا کہنا ہے کہ "ایرانی ویب سائٹ "مافا" 2009 میں بنائی گئی جس کا مقصد میری چھ کتابوں کو پھیلانا تھا۔ یہ کتابیں میں نے افغانستان اور سوویت یونین کے خلاف جہاد کے پہلے مرحلے میں عربوں کی تاریخ کے بارے میں تحریر کیں۔

ابو الولید 1993 سے افغانستان میں قیام پذیر رہا۔ اس وقت وہ اپنی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ تہران میں اپنی قیام گاہ میں رہتے ہوئے الصمود جریدے کے لیے لکھ رہا ہے جو افغانستان میں امارت اسلامیہ کے زیر انتظام جریدہ ہے۔

اگرچہ ابو الولید کی اہلیہ وفاء علی الشامی نے اپنی گفتگو میں ایران میں اپنے خاندان کو درپیش دباؤ کے حوالے سے دعوے کیے تھے تاہم اس کے باوجود حامد مصطفی (ابو الوليد) اپنی ایرانی ویب سائٹ "مافا" کے ذریعے واپس لوٹ آئے۔ اس طرح 11 ستمبر کے واقعات کے بعد ایرانی نظام کی جانب سے القاعدہ تنظیم اور اس کے ارکان کو ملنے والی معاونت کی تصدیق ہوتی ہے۔

ابو الولید کے مطابق "ایرانیوں نے عربوں اور ان کے خاندانوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی یہاں تک کہ ان میں بعض لوگوں کو مدد بھی پیش کی گئی۔ درحقیقت بعض شیعہ مذہبی شخصیات نے عربوں کی ایران میں پناہ ، ان کے تحفظ اور انہیں حوالے نہ کیے جانے کے سلسلے میں گہرے جوش کا اظہار کیا۔ تاہم اس کا برعکس ردّ عمل سامنے آیا۔ تہران کی دیواروں پر تحریروں میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ طالبان شیعہ علماء کو ملک بدر کر کے افغانستان بھیج دیا جائے۔

القاعدہ تنظیم کے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابو الولید کا کہنا ہے کہ "یقینا ایران اور القاعدہ کے بیچ تعلق ہے جس کو افغانستان میں امریکی جنگ کے حالات نے لاگو کیا۔ یہ تعلق اچانک تھا اور اس کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ افغانستان میں امارت اسلامیہ کی نازک پوزیشن نے لازم کر دیا کہ ایران کے ساتھ تعاون کا اچھا تعلق وجود میں لایا جائے"۔

ابو الولید کے قول کے مطابق "بن لادن کی جانب سے خطّے میں امریکا اور اس کے حلیفوں کی صورت میں موجود دشمن پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے واسطے لازم تھا کہ اسلام پسندوں کا ایران کے ساتھ اتحاد عمل میں آئے۔ بلا شبہہ ایک ایسا سلفی جہادی حلقہ ہے جس نے حقائق کا ادراک شروع کر دیا ہے اور وہ معاملات کو درست راہ پر لانے کے واسطے کوشاں ہے۔ اس میں بہت دیر کر دی گئی تاہم یہ کبھی نہ ہونے سے بہتر ہے"۔

ابو الولید کی ویب سائٹ "مافا" مشترکہ تعاون کے نظریے کا پرچار کرنے اور تہران میں مُلائیت کے نظام کے بنیاد پرست مسلح سیاسی اسلامی جماعتوں کے ساتھ مل جانے کی خطوط استوار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلامی مسالک کو قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ خلافت اور امامت کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔

باہمی بقاء کے بارے میں ابو الولید کا کہنا ہے کہ یہودیوں اور صلیبیوں کے خلاف امت مسلمہ کے سنی اور شیعہ دونوں دھڑ یکجا ہو جائیں۔ اس سے پہلے میں سلفی مسلک اور اہل سنت و الجماعت کے چاروں مسلکوں کے بیچ باہمی بقاء دیکھنا چاہتا ہوں"۔

پاسداران انقلاب ، قدس فورس اور میزائل پروگرام کے حوالے سے ابو الولید کا کہنا ہے کہ "ان موضوعات پر کسی طور بھی مذاکرات کی گنجائش نہیں۔ اس کا مطلب ایران کو غیر مسلح کرنے اور مکمل طور پر خود کو حوالے کر دینے کی کوشش ہو گا۔ لہذا ایرانی ریاست کو مذاکرات کی میز پر پیش کیا جانا ممکن نہیں۔ تو پھر اسرائیل اور امریکا ان امور کو مذاکرات کی میز پر پیش کرنے کا اصرار کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا سبب نفسیاتی دباؤ ڈالنا ، اقتصادی پابندیوں کے لیے جواز پیدا کرنا اور بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا ہے۔

یمن میں حوثیوں کے لیے ایران کی سپورٹ کے حوالے سے ابو الولید کا کہنا ہے کہ "مجھے اندیشہ ہے کہ عرب اور اسلامی ممالک کو مذہبی اور تزویراتی لحاظ سے یمن کی اہمیت کا ادراک اسے کھونے کے بعد ہی ہو گا"۔ ابو الولید کے مطابق حزب اللہ وہ واحد اسلامی محاذ ہے جو اسرائیل کے ساتھ براہ راست ٹکر لیتا ہے اور یہ ایران کی سپورٹ کے بغیر کسی طور ممکن نہیں۔

حوثیوں کے لیے ایرانی سپورٹ ایک ذمے داری ہے جس کو ہر مسلمان کو انجام دینا چاہیّے کیوں کہ یمنی عوام کو خلیجی صہیونیوں اور عرب صہیونیوں کے ہاتھوں حقیقی نسل کشی کا سامنا ہے۔

ابو الولید حامد مصطفی نے 1969 میں اسکندریہ یونی ورسٹی مصر سے میکینکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ انیس سو ستّر کی دہائی میں صحافت کے میدان میں کام کیا۔ افغان جہاد کے بارے میں لکھا اور اس میں شرکت بھی کی۔ 1979 میں افغانستان کے دورے میں مولوی جلال الدین حقانی سے تعارف ہوا اور 1992 تک حقانی کے ساتھ کام کیا۔ ابو الولید کی عبداللہ عزام کے ساتھ پہلی ملاقات پشاور میں 1984 میں ہوئی جس کے بعد دونوں کے درمیان دوستی کا تعلق قائم ہو گیا۔

ابو الولید کی اسامہ بن لادن سے ملاقات 1988 کے اوائل میں ہوئی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان انتہائی مضبوط دوستی نے جنم لیا جس کا سلسلہ 2011 میں القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت تک جاری رہا۔

ابو الولید مصطفی حامد نے 1996 میں سوڈان کا سفر کیا اور وہاں کئی ماہ قیام کیا۔ بعد ازاں افغانستان منتقل ہونے کے بعد ابو الولید نے افغان طالبان تحریک کے سابق سربراہ ملا محمد عمر سے قندھار شہر میں کئی مرتبہ ملاقات کی۔ 1997 میں بطور امیر المومنین ملا عمر کی بیعت کرنے والی پہلی عرب شخصیت ابو الولید کی تھی۔