.

القاعدہ کے ترجمان کی ایران کےسیاحتی دورے کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ سے قبضے میں لی گئی دستاویزات میں القاعدہ کے ترجمان سلیمان ابو غیث الکویتی کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ان میں بعض تصاویر ابو غیث کے ایران کے سیاحتی ٹور کے دوران لی گئی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 52 سالہ سلیمان ابوغیث الکویتی القاعدہ کا ترجمان اور رشتے میں اسامہ بن لادن کا داماد ہے۔

امریکی ’سی آئی اے‘ کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں القاعدہ کے ترجمان اور بن لادن کی صاحبزادی فاطمہ کے شوہر ابوغیث الکویتی کو دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں الکویتی ماضی کی تصاویر سے بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی پرانی تصاویر القاعدہ کے ابلاغی ونگ ’السحاب‘ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کی گئی تھیں۔ پرانی اور ایبٹ آباد کمپاؤنڈ سے ملنے والی تصاویر میں غیرمعمولی فرق دکھائی دیتاہے۔

تاہم تصاویر کی اہمیت ان کی زمانی سے زیادہ مکانی ہے۔ غالبا انہوں نے یہ تصاویر 2009ء میں ایران کے خفیہ سیاحتی دورے کے دوران لی تھیں۔

ابو غیث الکویتی کو بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ایران میں ہونے والی شادی کی تقریب میں بھی دیکھا گیا۔

خیال رہےکہ سلیمان جاسم ابو غیث 1956ء کوکویت میں پیداہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم کویت سے حاصل کی۔ فقہ اور اسلامی قانون میں تعلیم کے بعد وہ کویت کی مساجد میں امامت اور خطابت کرنے لگے۔ بعد میں ان کا تعارف القاعدہ کے ساتھ ہوا اور وہ بن لادن سےمنسلک ہوگئے۔ابو غیث کو نائن الیون واقعے کے ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے والے خالد شیخ محمد کے قریبی ساتھیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

سنہ 1994ء میں سلیمان ابوغیث نے صربیا سے لڑائی کے لیے بوسنیا کا بھی سفر کیا جہاں انہوں نے دو ماہ ہی قیام کیا اور واپس کویت آگئے، تاہم ان کی بوسنیا اورافغانستان آمد ورفت جاری رہی۔ القاعدہ سے تعلق کے انکشاف کے بعد کویتی وزارت اوقاف نے انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جس کے بعد ابو غیث اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت افغانستان چلے گئے۔

نائن الیون کے حملوں کے بعد ابو غیث کو ایک فوٹیج میں القاعدہ کے ترجمان کے طورپر دیکھا گیا۔ انہوں نے امریکا کو نائن الیون جیسے مزید حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ کویت نے مزید اقدامات کرتے ہوئے الکویتی کی شہریت بھی ختم کردی۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2001ء میں ابو غیث اپنے خاندان کے ہمراہ ایران چلے گئے جہاں ایران نے 10 سال ان کی میزبانی کی۔

سنہ 2013ء میں بو غیث خفیہ طورپر ترکی پہنچا تو امریکی خفیہ اداروں کو اس کی بھنک پڑ گئی۔ ترکی کے سیکیورٹی اداروں نے امریکی ایما پر ابو غیث کو حراست میں لے لیا۔ تاہم ترک حکام نے 33 روز کےبعد یہ کہہ کر رہا کردیا کہ ابو غیث ترکی میں کسی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث نہیں رہے ہیں۔

ترکی نے ابو غیث کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تاہم انہیں اردن بھیج دیا گیا۔۔ وہ اردن سے کویت کے لیے جانے کی تیاری کررہے تھے کہ اچانک سی آئی اے نے ایک کارروائی میں انہیں حراست میں لےلیا۔

سنہ 2014ءکو نیویارک کی ایک مقامی عدالت نے سلیمان ابو غیث کو دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے الزام میں عمرقید کی سزا سنائی۔