.

مصرکی ’ڈانسر‘ پروفیسرصدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل!

انگریزی ادب کی استاد ڈاکٹر منی پرنس کا انتخابی منشور کیاہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں رواں سال مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونے الے امیدواروں میں نہرسویز یونی ورسٹی میں انگریزی ادب کی خاتون پروفیسر ڈاکٹر منیٰ پرنس بھی شامل ہیں۔ ان کی شہرت ایک خاتون پروفیسر سے زیادہ حال ہی میں ان کا ایک ڈانس ہے۔یہ ڈانس انہوں نے اگرچہ اپنے گھر کی چھت پر کیا تھا مگر اس پر وہ سماجی اور عوامی حلقوں میں تنقید کی زد میں آگئی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پروفیسر منی پرنس اور ان کے ساتھیوں کی ٹیم نامزدگی کے لیے درکار ضمانتوں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 29 جنوری کو کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی آخری تاریخ سے قبل اس کے لیے تمام ضروری دستاویزات اور دیگر شرائط مکمل کرلیں گی۔

ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے اور اسے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جب ان سے ان کے انتخابی منشورکے بارےمیں استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’تعلیمی بیداری اور مصر کے متنوع ثقافتی اور جغرافیائی ماحول کے مطابق انسانی وسائل کا بھرپور طریقے سے استعمال، بے روزگاری کاخاتمہ اور سائنسی تحقیقات ان کے انتخابی منشور کے اہم نکات ہوں گے۔ڈاکٹر منی پرنس کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے سے پیشتر انہوں نےعوامی رابطہ مہمات کے دوران دیکھا کہ عوام کی بڑی تعداد انہیں صدر بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے عوام کے مطالبے پریہ اقدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصرمیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انہیں اب تک کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی۔ وہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد ملک گیر انتخابی مہم چلائیں گی۔

متنازع ڈانس کی تحقیقات

پروفیسر منیٰ پرنس پر چند ماہ قبل گھر پر ایک ڈانس پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزام میں سخت تنقید کی گئی جس کے بعد نہر سویزیونیورسٹی نے ان سے رقص کے بارے میں تحقیقات بھی کی تھیں۔

انہوں نے رقص کی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ’فیس بک‘ پر پوسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے فیس بک صفحے پر ساحل سمندر پر پیراکی کا لباس پہنے بنائی گئی متنازع تصاویر بھی پوسٹ کیں جن پرانہیں عوامی غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر منی پرنس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ مواد کو اظہار رائے کی آزادی اپنا حق قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری تصاویر اور ویڈیو سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ڈاکٹر پرنس نے اعتراض کرنےوالوں پر ملک میں تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں پر توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ لوگوں کو میرے گھر پر ہونے والی رقص کی تقریب پر توجہ دینے کے بجائے ملکی معاشی حالات پر توجہ دینی چاہیے۔

خیال رہے کہ مصرمیں مارچ کے آخر سے اپریل 2018ء کے آخر تک صدارتی انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب تک سابق آرمی چیف جنرل سامی عنان سمیت متعدد اہم شخصیات نے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری شروع کی ہے۔ موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی انتخابات میں دوسری بار حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔