.

مغرب میں ساکھ بہتر بنانے کے لیے دوحہ کا صہیونی لابی کا سہارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی قیادت مغربی دنیا میں اپنی تصویر بہتر بنانے اور دہشت گردی کی سپورٹ کے حوالے سے خود پر عائد الزامات دھونے کے واسطے کوشاں ہے۔ عربی روزنامے الشرق الاوسط نے تل ابیب میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے امریکا میں صہیونی لابی اور کئی اسرائیلی شخصیات کی مدد لی ہے۔

اخبار کے ذرائع کے مطابق ان میں بعض فریقوں نے قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس تنظیم کی سپورٹ روک دے۔ اس پر دوحہ نے جواب میں کہا کہ "حماس کے ساتھ تعلق غزہ پٹی کی تعمیرِ نو کے سلسلے میں ہے۔ اس حوالے سے ہر قدم اسرائیل کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے اٹھایا جاتا ہے"۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایسی علامات موجود ہیں جن سے قطر کی "امریکی صہیونی تنظیم" کے ساتھ مہم کے کامیاب ہونے کا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک امریکی یہودی تنظیم ہے جو اسرائیلی بستیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپورٹ کرتی ہے۔ چند ماہ قبل اس تنظیم کی قیادت نے قطر کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر ایسے دہشت گردوں کی سپورٹ کا الزام عائد کیا جو یہودیوں ، مسیحیوں اور مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ تاہم تنظیم کے سربراہ موٹ کلائن نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی اخبار "ہآریٹز" کو دیے گئے بیان میں کہا کہ وہ قطر کے ساتھ تعاون کا موقع دینے کو تیار ہیں۔

کلائن کے مطابق اگر قطر واقعتا حماس کی سپورٹ نہیں کرتا تو پھر ان سے ملاقات اور رابطے میں کوئی مسئلہ نہیں پایا جاتا، اور اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو پھر ان سے بات چیت کا قطعا کوئی سبب نہیں ہو سکتا"۔

اسرائیل کے لیے اپنی بھرپور حمایت کے سبب معروف وکیل ایل ڈیرشوبٹس نے گزشتہ ہفتے (The Hill) ویب سائٹ پر شائع اپنے مضمون سے سب کو حیران کر ڈالا۔ یہ مضمون قطر کی جانب سے دفاع کی ترجمانی کر رہا تھا۔ مذکورہ وکیل نے اپنے مضمون کے آغاز میں لکھا کہ "میں نے گزشتہ فہتے قطر کا دورہ کیا جس کی دعوت اور فنڈنگ قطر کے امیر کی جانب سے تھی"۔

ڈرشوبٹس نے مزید لکھا کہ "سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل اسرائیل کی ٹیم کو ریاض میں ہونے والی شطرنج کی عالمی چیمپین شپ میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم قطر کئی برسوں سے اسرائیلی کھلاڑیوں کو دوحہ میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے رہا ہے"۔ ڈرشوبٹس کا دوحہ کا دورہ چند ماہ قبل شروع ہونے والی اُن کوششوں کا حصّہ ہے جو واشنگٹن اور مغربی دنیا میں پالیسی سازوں کی نظر میں قطر کی تصویر تبدیل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

قطر کی مہم کے دوران دوحہ نے معاوضے کے بدلے نِک موزین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ موزین مذہبی گروپ الحریدیم سے تعلق رکھنے والا یہودی میڈیا ایڈوائزر ہے۔ ماہانہ 50 ہزار ڈالر کے مشاہرے کے مقابل موزین نے امریکا میں یہودی کمیونٹیز اور قدامت پرست ذرائع ابلاغ کے دروازے قطر کے لیے کھول دیے۔ قطر نے سعودی عرب سمیت چار عرب ممالک کی جانب سے اپنے بائیکاٹ کے بعد موزین کا رخ کیا۔

ڈرشوبٹس اپنے مضمون میں یہ بھی لکھتا ہے کہ "قطر خلیج کا اسرائیل ہے۔ وہ دشمنوں میں گھرا ہوا ہے ، بائیکاٹ کے خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے اور اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے"۔

ڈرشوبٹس کے مطابق دوحہ کے دورے کے دوران اس نے قطر میں سینئر اہل کاروں کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے "مثبت بیانات" سُنے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش بھی سامنے آئی۔

ڈرشوبٹس کے مطابق "قطر نے اس بات کی تردید کی کہ وہ حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی شہریوں کے یرغمال بنائے جانے اور دو فوجیوں کی لاشوں کے معاملے نے تنازع پیدا کر دیا۔ قطریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے میں مدد کرنا چاہتے ہیں"۔

ادھر بعض امریکی شخصیات نے ڈرشوبٹس کے مضمون پر نکتہ چینی کی ہے۔

امریکا میں Institute for the Defense of Democracies کے محقق جوناتھن اشنیٹسر نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ڈرشوبٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ ان معاملات پر توجہ دیجیے جن کو آپ واقعتا سمجھتے ہیں۔ میں اس بات پر مسرت محسوس کروں گا کہ آپ اس کی آگاہی حاصل کریں جو درحقیقت قطر میں ہو رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرشوبٹس "ٹی وی اسکرین پر اسرائیل کا دفاع کرتے ہیں اور پھر حماس کے سرپرستوں سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں"۔

اسرائیلی اخبار "ہآریٹز" کے ساتھ گفتگو میں جوناتھن نے کہا کہ ایسی بہت سے معلومات ہیں جو قطر کے حماس ، القاعدہ ، طالبان اور دیگر دہشت گرد عناصر کے ساتھ تعلق کا پتہ دیتی ہیں۔

اسی سیاق میں غزہ پٹی کی تعمیر نو کے ذمّے دار قطری وزیر محمد العمادی نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سرگرمیاں اسرائیل میں اُن سکیورٹی حکام کے ساتھ رابطہ کاری سے انجام پاتی ہیں جو غزہ پٹی میں تعمیر نو پر توجہ دے رہے ہیں۔ قطر کے وزیر نے دعوی کیا کہ حماس کو دی گئی قطری مالی امداد دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کڑی نگرانی کا نظام ہے۔