.

’قطر نے فُٹ بال کپ کی میزبانی کے عوض پلاٹر کو10 کروڑ ڈالر رشوت دی‘

رشوت سے ورلڈ کپ میزبانی خریدنے کا نیا قطری اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کی میزبانی خلیجی ریاست قطر کو دیے جانے اور ڈیل کے لیے دوحہ کی طرف سے ’فیفا‘ کے ارکان کو بھاری رشوت دیے جانے کی خبریں پہلی بھی آتی رہی ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک چونکا دینے والا انکشاف ایک آسٹریلوی خاتون صحافی نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ آسٹریلوی خاتون صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن کے ’فیفا‘ کے سابق سربراہ سیپ پلاٹر نے فٹ بال کپ 2022ء قطر کو دیے جانے کی سہولت کے عوض قطرسے دس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم وصول کی تھی۔

آسٹریلوی تجزیہ نگار پونیٹا میرسیڈیس نے بتایا کہ ’فیفا‘ کے سابق صدر سیپ پلاٹر نے قطری اسپورٹس چینل اورامیر قطر کے ساتھ پیشگی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت قطر نے فیفا کو 100 ملین ڈالر کی رقم منتقل کرنا تھی اور اس کے عوض سیپ پلاٹر سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دوحہ کو دینے کی مہم میں پیش پیش ہوتے۔

آسٹریلوی صحافیہ کا کہنا ہے کہ سیپ بلاٹر سےہونے والی ملاقاتوں میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے قطر کے ساتھ ڈیل کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ نیز یہ کہ پلاٹر کو پیشگی اس بات کا علم تھا کہ سنہ 2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی کے حصول میں قطر کامیاب ہوگا۔ 2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی کے لیے امریکا بھی پرامید تھا مگر سیپ پلاٹر کو معلوم تھا کہ امریکا کپ کی میزبانی میں ناکام ہوگا۔ جب قطر کی میزبانی کا اعلان کیا گیا تو پلاٹر نے اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کو فون کرکےان کی ناکامی کے بارے میں بتایا۔

مسٹر پلاٹر نے انکشاف کیا کہ یورپی فٹبال فیڈریشن کے سابق چیئرمین میشل پلاٹینی نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اور’فیفا‘ کے 22 دوسرے ارکان 2022ء کے فٹ بال کے لیے قطر کی میزبانی کی حمایت کریں گے۔