.

بارزانی کے دورے کے بعد کردستان تہران کا عقبی باغیچہ بن جائے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردستان کے وزیراعظم نیجرفان بارزانی اور ان کے نائب قباد طالبانی کے ایرانی دارالحکومت تہران کے دورے کو "غیر اعلانیہ" قرار دیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے ایرانی صدر اور دیگر عہدے داران سے ملاقات کی۔

البتہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ کرد عہدے داران بغداد میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کے بعد تہران روانہ ہوئے۔ یہ بغداد اور اربیل کے درمیان تعلقات میں آنے والے بڑے بحران کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔ اس بحران نے کردستان کی خودمختاری سے متعلق ریفرینڈم اور پھر عراقی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں جنم لیا تھا۔ عراقی کارروائیوں میں کردوں کے زیر کنٹرول متنازع علاقوں کو واپس لے لیا گیا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نیجرفان بارزانی اور قباد طالبانی ان دوروں اور ملاقاتوں میں ساتھ تھے جب کہ کردستان میں ان دونوں کا تعلق حریف جماعتوں سے ہے۔ عراقی عسکری کارروائی کے بعد اربیل پر کنٹرول رکھنے والی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے کردستان نیشنل یونین پر "غداری" کا الزام عائد کیا کیوں کہ عراقی فوج کی پیش قدمی کے پر نیشنل یونین نے اپنی فورسز کو کرکوک سے نکال لیا تھا۔ دنوں جماعتوں کے درمیان بحران جاری ہے یہاں تک کہ وہ آئندہ عراقی پارلیمانی انتخابات میں اتحاد پر بھی متفق نہیں ہو سکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک اعلی سطح کے ایرانی عسکری عہدے دار نے کردستان کا خفیہ دورہ کیا۔ اس دورے کی ابتدا سلیمانیہ میں نیشنل یونین پارٹی کی قیادت سے ملاقات سے ہوئی اور پھر اس کے بعد وہ اربیل گیا جہاں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق ایرنی عسکری عہدے دار نے کرد قیادت پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ بغداد کے ساتھ مسائل حل کرنے کا واحد راستہ "خود مختاری کے ریفرینڈم کے نتائج کو منسوخ کرنے" کا اعلان ہے۔ ایرانی عہدے دار نے مطالبہ کیا کہ بحران سے متعلق تمام تر امور کے حوالے سے ایک متفقہ کرد موقف ہونا چاہیے اور کردوں پر لازم ہے کہ وہ بغداد کے ساتھ فوری مذاکرات کریں۔

یاد رہے کہ عراقی کردستان کو ریفرینڈم کے بعد اقتصادی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ نے کرد ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے اور کردستان کے ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت نے ریجن کے سرکاری ملازمین کو اب تک تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کی۔

نیجرفان بارزانی نے 22 جنوری پیر کے روز اپنی گفتگو میں بغداد کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عراقی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں اختلافات کو آئین کے تحت حل کرنے پر اتفاق رائے ہوا۔ اس کے علاوہ تیل ، سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے حوالے سے بغداد کے ساتھ کئی کمیٹیاں تشکیل دینے پر بھی بات ہوئی۔

ادھر ایران کے صدر حسن روحانی نے باور کرایا کہ ان کا ملک ایک "متحد عراق" کو سپورٹ کرتا ہے اور خطے کے تمام ممالک کا یہ فرض ہے کہ وہ دیگر ملکوں کی وحدت کے دفاع کے واسطے کوشاں رہیں۔ ایرانی صدر نے بتایا کہ کردستان پر لازم ہے کہ وہ عراق کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ عراق کے کُردوں کو عراقی آئین کے سائے میں اپنے حقوق تلاش کرنے چاہیّں۔ روحانی نے اعلان کیا کہ ایران "عراقی کردستان میں سرمایہ کاری" کے لیے تیار ہے۔

ایران کی عراقی کردستان میں تجارتی سرمایہ کاری موجود ہے تاہم ماضی میں وہ ایک طرح سے سلیمانیہ میں محصور رہا۔ اربیل میں ترکی کا زیادہ بڑا کردار رہا ہے اور وہ بغداد کی مخالفت کے باوجود کردستان سے تیل خریدا کرتا تھا۔ بعد ازاں ترکی کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا کہ وہ کردستان کو عراق سے علاحدہ ہونے سے روکنے کے لیے طاقت کا سہارا لے گا جس کے نتیجے میں انقرہ اور اربیل کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

اب یہ یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ترکوں کے لیے کردستان میں سرگرمیوں کا ایک بڑا میدان باقی رہے گا یا ان کی جگہ ایرانی لے لیں گے ؟