.

مملکت میں "الاخوان" کے پروان چڑھنے سے متعلق سعودی وزیر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اسلامی امور کے نائب وزیر ڈاکٹر توفیق السدیری نے اپنی نئی کتاب "تشخیص الصحوہ" میں خاموشی توڑتے ہوئے مملکت میں صحوہ (بیداری) تحریک کے پروان چڑھنے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ السدیری مملکت میں سرکاری سطح پر مذہبی انتظامی امور میں طویل عملی تجربہ رکھتے ہیں۔

السدیری نے اپنی کتاب میں 70ء کی دہائی کے آغاز میں سعودی عرب میں اسلامی تحریک کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربے پر روشنی ڈالی ہے جب کہ وہ اسکول میں سیکنڈری کے طالب علم تھے۔ السدیری نے اپنی کتاب کو ایک "چیخ" کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر اپنا فریضہ جان کر اس مختصر فکری جائزے کو مرتب کرنے پر مجبور ہوئے۔

السدیری نے اس حوالے سے خفیہ پردہ ہٹاتے ہوئے سعودی عرب میں اسلام کی سیاسی تفسیر کی حامل جماعتوں پر روشنی ڈالی جنہوں نے صحوہ تحریک کی نمائندگی کی ، ان میں الاخوان المسلمین تنظیم بھی تھی۔ السدیری نے مملکت میں الاخوان کے قیام اور اس کے وجود کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ سروری تنظیم ، اس کا پروان چڑھنا اور کام کا طریقہ کار۔ اسی طرح حزب التحریر اور الجماعہ السلفیہ المحتسبہ (جہیمان کی جماعت) شامل ہیں۔

السدیری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں الاخوان کا تنظیمی عمل مدینہ منورہ سے شروع ہوا جب حسن البنا نے ایک سعودی نوجوان (ح) کو مدینہ منورہ ، جدہ اور مکہ مکرمہ کے لیے اپنی تنظیم کا نمائندہ مقرر کیا۔

ڈاکٹر توفیق السدیری کے مطابق سعودی عرب میں الاخوان المسلمین تنظیم کی تشکیل درحقیقت 1937 میں ہوئی۔ اپنی تشکیل سے لے کر آج تک الاخوان تنظیم نے ریاست میں اہم شعبوں میں مداخلت کی۔ ان میں نمایاں ترین سیکٹر تعلیم ، مذہب ، انتظامیہ اور جزوی طور پر عسکری سیکٹر شامل ہے۔ اسی طرح نجی سیکٹر اور تجارت کا میدان کیوں کہ خلیج کا علاقہ تنظیم کی فنڈنگ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

السدیری نے بتایا کہ مملکت میں الاخوان کی سرگرمیوں کے عروج کا وقت 1967 سے 1991 تک رہا۔ اس دوران تنظیم کے وجود کے نقشے کے مطابق یہ پانچ مقامات پر موجود رہی یعنی اخوان الحجاز، اخوان الزبير، اخوان الشرقيہ اور اخوان الریاض۔

کتاب کے مولف کے مطابق سعودی عرب میں سروری تنظیم کا پہلا گروپ قصیم کے صوبے میں قائم ہوا اور اس کے بعد ریاض منتقل ہو گیا۔ مملکت میں اس تنظیم کا پہلا امیر ریاض کے ایک شرعی کالج میں موجود سعودی شہری تھا۔

مملکت میں 1979 میں مسجد حرام پر قبضہ کرنے والی "جہیمان کی جماعت" کے بارے میں السدیری نے بتایا کہ ان کی ملاقات حرم کے واقعے سے کچھ عرصہ قبل اس کے بعض ارکان سے ہوئی۔ السدیری کے مطابق وہ ایک رات ریاض میں اپنے ایک ساتھی کے گھر پر موجود تھے جہاں اس جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض طلبہ بھی حاضر تھے۔ ان میں سے ایک نے مہدی منتظر کے بارے میں تفصیلی گفتگو شروع کر دی۔ اس موقع پر میں نے ازراہ مذاق کہا کہ "کیا محمد القحطانی ہی مہدی منتظر نہیں؟"۔ اس پر ان تمام لوگوں کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور مجلس میں خاموشی چھا گئی۔

سعودی عرب کے اسلامی امور کے نائب وزیر نے اپنی کتاب میں صرف الاخوان المسلمین ، سروری تنظیم اور الجماعہ المحتسبہ کے متعلق سیر حاصل گفتگو نہیں کی بلکہ دیگر تنظیموں مثلا القاعدہ ، التیار السلفی اور القبیسیات و الاحباش جماعت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔